جامع الترمذي حدیث نمبر: 469
Jami at-Tirmidhi 469
کتاب #4: کتاب: صلاۃ وترکے ابواب
12: باب مَا جَاءَ فِي مُبَادَرَةِ الصُّبْحِ بِالْوِتْرِ
باب: صبح ہونے سے پہلے وتر پڑھ لینے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ فَقَدْ ذَهَبَ كُلُّ صَلَاةِ اللَّيْلِ وَالْوِتْرُ، فَأَوْتِرُوا قَبْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ " قَالَ أَبُو عِيسَى: وَسُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى قَدْ تَفَرَّدَ بِهِ عَلَى هَذَا اللَّفْظِ، وَرُوِي عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " لَا وِتْرَ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ " وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ وَبِهِ يَقُولُ: الشافعي , وَأَحْمَدُ , وَإِسْحَاق، لَا يَرَوْنَ الْوِتْرَ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب فجر طلوع ہو گئی تو تہجد ( قیام اللیل ) اور وتر کا سارا وقت ختم ہو گیا ، لہٰذا فجر کے طلوع ہونے سے پہلے وتر پڑھ لیا کرو “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- سلیمان بن موسیٰ ان الفاظ کے ساتھ منفرد ہیں ، ¤ ۲- نیز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا : ” فجر کے بعد وتر نہیں “ ، ¤ ۳- بہت سے اہل علم کا یہی قول ہے ۔ اور شافعی ، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں : یہ لوگ نماز فجر کے بعد وتر پڑھنے کو درست نہیں سمجھتے ۱؎ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 469]
💡 وضاحت:
۱؎: پچھلی حدیث کے حاشیہ میں گزرا کہ بہت سے صحابہ کرام وائمہ عظام وتر کی قضاء کے قائل ہیں، اور یہی راجح مسلک ہے، کیونکہ اگر وتر نہیں پڑھی تو سنن و نوافل کی جفت رکعتیں طاق نہیں ہو پائیں گی، واللہ اعلم۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الإرواء (2 / 154)، صحيح أبي داود (1290)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 7673) (صحیح)