جامع الترمذي حدیث نمبر: 459
Jami at-Tirmidhi 459
کتاب #4: کتاب: صلاۃ وترکے ابواب
6: باب مَا جَاءَ فِي الْوِتْرِ بِخَمْسٍ
باب: پانچ رکعت وتر پڑھنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ الْكَوْسَجُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " كَانَتْ صَلَاةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً يُوتِرُ مِنْ ذَلِكَ بِخَمْسٍ لَا يَجْلِسُ فِي شَيْءٍ مِنْهُنَّ إِلَّا فِي آخِرِهِنَّ، فَإِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ " قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَأَى بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمُ الْوِتْرَ بِخَمْسٍ، وَقَالُوا: لَا يَجْلِسُ فِي شَيْءٍ مِنْهُنَّ إِلَّا فِي آخِرِهِنَّ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَسَأَلْتُ أَبَا مُصْعَبٍ الْمَدِينِيَّ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُوتِرُ بِالتِّسْعِ وَالسَّبْعِ " قُلْتُ: كَيْفَ يُوتِرُ بِالتِّسْعِ وَالسَّبْعِ، قَالَ: " يُصَلِّي مَثْنَى مَثْنَى وَيُسَلِّمُ وَيُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قیام اللیل ( تہجد ) تیرہ رکعت ہوتی تھی ۔ ان میں پانچ رکعتیں وتر کی ہوتی تھیں ، ان ( پانچ ) میں آپ صرف آخری رکعت ہی میں قعدہ کرتے تھے ، پھر جب مؤذن اذان دیتا تو آپ کھڑے ہو جاتے اور دو ہلکی رکعتیں پڑھتے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ابوایوب رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ۔ ¤ ۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا خیال ہے کہ ( جس ) وتر کی پانچ رکعتیں ہیں ، ان میں وہ صرف آخری رکعت میں قعدہ کرے گا ، ¤ ۴- میں نے اس حدیث کے بارے میں کہ ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نو اور سات رکعت وتر پڑھتے تھے “ ابومصعب مدینی سے پوچھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نو اور سات رکعتیں کیسے پڑھتے تھے ؟ تو انہوں نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو دو رکعت پڑھتے اور سلام پھیرتے جاتے ، پھر ایک رکعت وتر پڑھ لیتے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 459]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، صحيح أبي داود (1209 و 1210)، صلاة التراويح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(459) إسناده ضعيف ¤ الحارث الأعور ضعيف (تقدم:282) وأبو اسحاق عنعن (تقدم:107)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/المسافرین 17 (737)، (تحفة الأشراف: 16981) (صحیح)