📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي

Jami at-Tirmidhi (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
📁 کتاب: نماز میں سہو و نسیان سے متعلق احکام و مسائل (أبواب السهو) 🏷️ باب: باب: نماز میں بات چیت کے منسوخ ہونے کا بیان۔
عربی:
اردو:
جامع الترمذي حدیث نمبر: 405 Jami at-Tirmidhi 405
کتاب #3: کتاب: نماز میں سہو و نسیان سے متعلق احکام و مسائل
185: باب مَا جَاءَ فِي نَسْخِ الْكَلاَمِ فِي الصَّلاَةِ
باب: نماز میں بات چیت کے منسوخ ہونے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ شُبَيْلٍ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: " كُنَّا نَتَكَلَّمُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ، يُكَلِّمُ الرَّجُلُ مِنَّا صَاحِبَهُ إِلَى جَنْبِهِ حَتَّى نَزَلَتْوَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ سورة البقرة آية 238 فَأُمِرْنَا بِالسُّكُوتِ وَنُهِينَا عَنِ الْكَلَامِ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ , وَمُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ، قَالُوا: إِذَا تَكَلَّمَ الرَّجُلُ عَامِدًا فِي الصَّلَاةِ أَوْ نَاسِيًا أَعَادَ الصَّلَاةَ، وَهُوَ قَوْلُ: سفيان الثوري , وَابْنِ الْمُبَارَكِ وَأَهْلِ الْكُوفَةِ، وقَالَ بَعْضُهُمْ: إِذَا تَكَلَّمَ عَامِدًا فِي الصَّلَاةِ أَعَادَ الصَّلَاةَ وَإِنْ كَانَ نَاسِيًا أَوْ جَاهِلًا أَجْزَأَهُ، وَبِهِ يَقُولُ: الشَّافِعِيُّ.
زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے پیچھے نماز میں بات چیت کر لیا کرتے تھے ، آدمی اپنے ساتھ والے سے بات کر لیا کرتا تھا ، یہاں تک کہ آیت کریمہ : «‏وقوموا لله قانتين» ” اللہ کے لیے با ادب کھڑے رہا کرو “ نازل ہوئی تو ہمیں خاموش رہنے کا حکم دیا گیا اور بات کرنے سے روک دیا گیا ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- زید بن ارقم رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ابن مسعود اور معاویہ بن حکم رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں ، ¤ ۳- اکثر اہل علم کا عمل اسی پر ہے کہ آدمی نماز میں قصداً یا بھول کر گفتگو کر لے تو نماز دہرائے ۔ سفیان ثوری ، ابن مبارک اور اہل کوفہ کا یہی قول ہے ۔ اور بعض کا کہنا ہے کہ جب نماز میں قصداً گفتگو کرے تو نماز دہرائے اور اگر بھول سے یا لاعلمی میں گفتگو ہو جائے تو نماز کافی ہو گی ، ¤ ۴- شافعی اسی کے قائل ہیں ۱؎ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 405]
💡 وضاحت:
۱؎: رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق مومن سے بھول چوک معاف ہے، بعض لوگوں نے یہ شرط لگائی ہے کہ بشرطیکہ تھوڑی ہو ہم کہتے ہیں ایسی حالت میں آدمی تھوڑی بات ہی کر پاتا ہے کہ اسے یاد آ جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، صحيح أبي داود (875)، الإرواء (393)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/العمل فی الصلاة 2 (1200)، وتفسیر البقرة 42 (4534)، صحیح مسلم/المساجد 7 (539)، سنن ابی داود/ الصلاة 178 (949)، سنن النسائی/السہو20 (1220)، (تحفة الأشراف: 3661)، مسند احمد (4/368)، ویأتي عند المؤلف في تفسیر البقرة برقم: 2986) (صحیح)
جامع الترمذي • حدیث #405
403 404 405 406 407
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ