جامع الترمذي حدیث نمبر: 382
Jami at-Tirmidhi 382
کتاب #2: کتاب: نماز کے احکام و مسائل
168: باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ النَّفْخِ فِي الصَّلاَةِ
باب: نماز میں پھونک مارنے کی کراہت کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ مَيْمُونٍ أَبِي حَمْزَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ، وَقَالَ: غُلَامٌ لَنَا يُقَالُ لَهُ رَبَاحٌ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَحَدِيثُ أُمِّ سَلَمَةَ إِسْنَادُهُ لَيْسَ بِذَاكَ، وَمَيْمُونٌ أَبُو حَمْزَةَ قَدْ ضَعَّفَهُ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي النَّفْخِ فِي الصَّلَاةِ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: إِنْ نَفَخَ فِي الصَّلَاةِ اسْتَقْبَلَ الصَّلَاةَ، وَهُوَ قَوْلُ سفيان الثوري وَأَهْلِ الْكُوفَةِ، وقَالَ بَعْضُهُمْ: يُكْرَهُ النَّفْخُ فِي الصَّلَاةِ وَإِنْ نَفَخَ فِي صَلَاتِهِ لَمْ تَفْسُدْ صَلَاتُهُ، وَهُوَ قَوْلُ: أَحْمَدَ , وَإِسْحَاق.
اس سند سے حماد بن زید نے میمون ابی حمزہ سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے اور اس میں «غلام لنا يقال له رباح» ہے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- ام سلمہ رضی الله عنہا کی حدیث کی سند کچھ زیادہ قوی نہیں ، میمون ابوحمزہ کو بعض اہل علم نے ضعیف قرار دیا ہے ، ¤ ۲- اور نماز میں پھونک مارنے کے سلسلہ میں اہل علم کے درمیان اختلاف ہے ، بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شخص نماز میں پھونک مارے تو وہ نماز دوبارہ پڑھے ، یہی قول سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا ہے ۔ اور بعض نے کہا ہے کہ نماز میں پھونک مارنا مکروہ ہے ، اور اگر کسی نے اپنی نماز میں پھونک مار ہی دی تو اس کی نماز فاسد نہ ہو گی ، یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ وغیرہ کا قول ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 382]
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (ضعیف)