جامع الترمذي حدیث نمبر: 379
Jami at-Tirmidhi 379
کتاب #2: کتاب: نماز کے احکام و مسائل
167: باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ مَسْحِ الْحَصَى فِي الصَّلاَةِ
باب: نماز میں کنکری ہٹانے کی کراہت کا بیان۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَلَا يَمْسَحْ الْحَصَى فَإِنَّ الرَّحْمَةَ تُوَاجِهُهُ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ مُعَيْقِيبٍ , وَعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ , وَحُذَيْفَةَ , وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي ذَرٍّ حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنَّهُ كَرِهَ الْمَسْحَ فِي الصَّلَاةِ " وَقَالَ: إِنْ كُنْتَ لَا بُدَّ فَاعِلًا فَمَرَّةً وَاحِدَةً، كَأَنَّهُ رُوِيَ عَنْهُ رُخْصَةٌ فِي الْمَرَّةِ الْوَاحِدَةِ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ.
ابوذر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی نماز کے لیے کھڑا ہو تو اپنے سامنے سے کنکریاں نہ ہٹائے ۱؎ کیونکہ اللہ کی رحمت اس کا سامنا کر رہی ہوتی ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- ابوذر کی حدیث حسن ہے ، ¤ ۲- اس باب میں معیقیب ، علی بن ابی طالب ، حذیفہ ، جابر بن عبداللہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ¤ ۳- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے نماز میں کنکری ہٹانے کو ناپسند کیا ہے اور فرمایا ہے کہ اگر ہٹانا ضروری ہو تو ایک بار ہٹا دے ، گویا آپ سے ایک بار کی رخصت مروی ہے ، ¤ ۴- اور اسی پر اہل علم کا عمل ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 379]
💡 وضاحت:
۱؎: اس ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ نمازی نماز میں نماز کے علاوہ دوسری چیزوں کی طرف متوجہ نہ ہو، اس لیے کہ اللہ کی رحمت اس کی جانب متوجہ ہوتی ہے، اگر وہ دوسری چیزوں کی طرف توجہ کرتا ہے تو اندیشہ ہے کہ اللہ کی رحمت اس سے روٹھ جائے اور وہ اس سے محروم رہ جائے اس لیے اس سے منع کیا گیا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، ابن ماجة (1027)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الصلاة 175 (945)، سنن النسائی/السہو 7 (1192)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 63 (1028)، (تحفة الأشراف: 11997)، سنن الدارمی/الصلاة 110 (1428) (ضعیف) (ابو الأحوص لین الحدیث ہیں)