جامع الترمذي حدیث نمبر: 3595
Jami at-Tirmidhi 3595
کتاب #49: کتاب: مسنون ادعیہ و اذکار
129: باب فِي الْعَفْوِ وَالْعَافِيَةِ
باب: دنیا و آخرت میں عافیت طلبی کا بیان
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ , وَأَبُو أَحْمَدَ , وَأَبُو نُعَيْمٍ , عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الدُّعَاءُ لَا يُرَدُّ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَكَذَا رَوَى أَبُو إِسْحَاق الْهَمْدَانِيُّ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ الْكُوفِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا وَهَذَا أَصَحُّ.
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اذان اور اقامت کے درمیان کی دعا رد نہیں کی جاتی ہے “ ، ( یعنی ضرور قبول ہوتی ہے ۔ ) © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ابواسحاق ہمدانی نے برید بن ابی مریم کوفی سے اور برید کوفی نے انس کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے ہی روایت کی ہے ، اور یہ زیادہ صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3595]
قال الشيخ الألباني:
صحيح وقد مضى (212)
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم 212 (صحیح)