جامع الترمذي حدیث نمبر: 3587
Jami at-Tirmidhi 3587
کتاب #49: کتاب: مسنون ادعیہ و اذکار
125: باب
باب
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُفْيَانَ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَعْدَانَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ الْجَرْمِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي وَقَدْ وَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى، وَقَبَضَ أَصَابِعَهُ وَبَسَطَ السَّبَّابَةَ وَهُوَ يَقُولُ: " يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ.
عاصم بن کلیب بن شہاب کے دادا شہاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا ، آپ نماز پڑھا رہے تھے ، آپ نے اپنا بایاں ہاتھ اپنی بائیں ران پر رکھا تھا ، اور اپنا دایاں ہاتھ اپنی دائیں ران پر رکھا ، انگلیاں بند کی تھیں ( یعنی مٹھی باندھ رکھی تھی ) اور «سبابہ» ( شہادت کی انگلی ) کھول رکھی تھی اور آپ یہ دعا کر رہے تھے : «يا مقلب القلوب ثبت قلبي على دينك» ” اے دلوں کے پھیرنے والے میرا دل اپنے دین پر جما دے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث اس سند سے غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3587]
قال الشيخ الألباني:
منكر بهذا السياق وانظر الأحاديث (291 - 293 و 2226 و 3588) // وهي في صحيح سنن الترمذي - باختصار السند بالأرقام الآتية (238 / 292 - 240 / 294 و 1739 / 2240 و 2792 / 3768) //
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 4848) (منکر) (اس سیاق سے یہ حدیث منکر ہے، سند میں ”عبداللہ بن معدان ابو سعدان“ لین الحدیث ہیں، اور یہ حدیث اس بابت دیگر صحیح احادیث کے برخلاف ہے)