جامع الترمذي حدیث نمبر: 3536
Jami at-Tirmidhi 3536
کتاب #49: کتاب: مسنون ادعیہ و اذکار
99: باب فِي فَضْلِ التَّوْبَةِ وَالاِسْتِغْفَارِ وَمَا ذُكِرَ مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ لِعِبَادِهِ
باب: توبہ و استغفار کی فضیلت اور بندوں پر اللہ کی رحمتوں کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، قَالَ: أَتَيْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ الْمُرَادِيَّ، فَقَالَ: مَا جَاءَ بِكَ، قُلْتُ: ابْتِغَاءَ الْعِلْمِ، قَالَ: " بَلَغَنِي أَنَّ الْمَلَائِكَةَ تَضَعُ أَجْنِحَتَهَا لِطَالِبِ الْعِلْمِ رِضًا بِمَا يَفْعَلُ ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ: قُلْتُ لَهُ: إِنَّهُ حَاكَ قَالَ: قُلْتُ لَهُ: إِنَّهُ حَاكَ أَوْ قَالَ: حَكَّ فِي نَفْسِي شَيْءٌ مِنَ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ، فَهَلْ حَفِظْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ شَيْئًا؟ قَالَ: نَعَمْ، كُنَّا إِذَا كُنَّا فِي سَفَرٍ أَوْ مُسَافِرِينَ أُمِرْنَا أَنْ لَا نَخْلَعَ خِفَافَنَا ثَلَاثًا إِلَّا مِنْ جَنَابَةٍ، وَلَكِنْ مِنْ غَائِطٍ وَبَوْلٍ وَنَوْمٍ ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ: فَقُلْتُ: فَهَلْ حَفِظْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْهَوَى شَيْئًا؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَقُلْتُ: فَهَلْ حَفِظْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْهَوَى شَيْئًا؟ قَالَ: نَعَمْ، كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ فَنَادَاهُ رَجُلٌ كَانَ فِي آخِرِ الْقَوْمِ بِصَوْتٍ جَهْوَرِيٍّ أَعْرَابِيٌّ جِلْفٌ جَافٍ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ يَا مُحَمَّدُ، فَقَالَ لَهُ الْقَوْمُ: مَهْ إِنَّكَ قَدْ نُهِيتَ عَنْ هَذَا، فَأَجَابَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوًا مِنْ صَوْتِهِ هَاؤُمُ، فَقَالَ الرَّجُلُ: يُحِبُّ الْقَوْمَ وَلَمَّا يَلْحَقْ بِهِمْ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ قَالَ زِرٌّ: فَمَا بَرِحَ يُحَدِّثُنِي حَتَّى حَدَّثَنِي أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ جَعَلَ بِالْمَغْرِبِ بَابًا عَرْضُهُ مَسِيرَةُ سَبْعِينَ عَامًا لِلتَّوْبَةِ، لَا يُغْلَقُ حَتَّى تَطْلُعِ الشَّمْسُ مِنْ قِبَلِهِ، وَذَلِكَ قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ لا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا سورة الأنعام آية 158 الْآيَةَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
زر بن حبیش کہتے ہیں کہ میں صفوان بن عسال مرادی رضی الله عنہ کے پاس آیا ، انہوں نے پوچھا : تمہیں کیا چیز یہاں لے کر آئی ہے ؟ میں نے کہا : علم حاصل کرنے آیا ہوں ، انہوں نے کہا : مجھے یہ حدیث پہنچی ہے کہ ” فرشتے طالب علم کے کام ( و مقصد ) سے خوش ہو کر طالب علم کے لیے اپنے پر بچھا دیتے ہیں “ ، وہ کہتے ہیں : میں نے کہا : میرے جی میں یہ خیال گزرا یا میرے دل میں موزوں پر مسح کے بارے میں کچھ بات کھٹکی ، تو کیا اس بارے میں آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی بات یاد ہے ؟ انہوں نے کہا : جی ہاں ، ہم جب سفر میں ہوں ( یا سفر کرنے والے ہوں ) تو ہمیں حکم دیا گیا کہ ” ہم تین دن تک اپنے موزے پیروں سے نہ نکالیں ، سوائے جنابت کی صورت میں ، پاخانہ کر کے آئے ہوں یا پیشاب کر کے ، یا سو کر اٹھے ہوں تو موزے نہ نکالیں “ ۔ پھر میں نے ان سے پوچھا : کیا آپ کو محبت و چاہت کے سلسلے میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی بات یا دہے ؟ انہوں نے کہا : ہاں ، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے تو آپ کو ایک آدمی نے جو لوگوں میں سب سے پیچھے چل رہا تھا اور گنوار ، بیوقوف اور سخت مزاج تھا ، بلند آواز سے پکارا ، کہا : یا محمد ! یا محمد ! لوگوں نے اس سے کہا : ٹھہر ، ٹھہر ، اس طرح پکارنے سے تمہیں روکا گیا ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اسی کی طرح بھاری اور بلند آواز میں جواب دیا : ” بڑھ آ ، بڑھ آ ، آ جا آ جا “ ( وہ جب قریب آ گیا ) تو بولا : آدمی کچھ لوگوں سے محبت کرتا ہے لیکن ان کے درجے تک نہیں پہنچا ہوتا ہے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو انسان جس سے محبت کرتا ہے اسی کے ساتھ اٹھایا جائے گا “ ۔ زر کہتے ہیں : وہ مجھ سے حدیث بیان کرتے رہے یہاں تک کہ انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ ” اللہ نے مغرب میں توبہ کا ایک دروازہ بنایا ہے جس کی چوڑائی ستر سال کی مسافت ہے ، وہ بند نہ کیا جائے گا یہاں تک کہ سورج ادھر سے نکلنے لگے ( یعنی قیامت تک ) اور اسی سلسلے میں اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے : «يوم يأتي بعض آيات ربك لا ينفع نفسا إيمانها» ” جس دن کہ تیرے رب کی بعض آیات کا ظہور ہو گا اس وقت کسی شخص کو اس کا ایمان کام نہ دے گا “ ( الأنعام : ۱۵۸ ) ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3536]
قال الشيخ الألباني:
حسن الإسناد انظر ما قبله (3535)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ماقبلہ (صحیح الإسناد)