جامع الترمذي حدیث نمبر: 3500
Jami at-Tirmidhi 3500
کتاب #49: کتاب: مسنون ادعیہ و اذکار
79: باب مِنْهُ
باب:۔۔۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ عُمَرَ الْهِلَالِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ إِيَاسٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي السَّلِيلِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلًا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، سَمِعْتُ دُعَاءَكَ اللَّيْلَةَ فَكَانَ الَّذِي وَصَلَ إِلَيَّ مِنْهُ أَنَّكَ تَقُولُ: " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي، وَوَسِّعْ لِي فِي رِزْقِي، وَبَارِكْ لِي فِيمَا رَزَقْتَنِي، قَالَ: فَهَلْ تَرَاهُنَّ تَرَكْنَ شَيْئًا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَأَبُو السَّلِيلِ اسْمُهُ ضُرَيْبُ بْنُ نُفَيْرٍ وَيُقَالُ: ابْنُ نُقَيْرِ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نے آج رات آپ کی دعا سنی ، میں نے آپ کی جو دعا سنی وہ یہ تھی : «اللهم اغفر لي ذنبي ووسع لي في داري وبارك لي فيما رزقتني» ” اے اللہ ! میرے گناہ بخش دے اور میرے گھر میں کشادگی دے ، اور میرے رزق میں برکت دے “ ، آپ نے فرمایا : ” کیا ان دعائیہ کلمات نے کچھ چھوڑا ؟ ( یعنی ان میں دین دنیا کی سبھی بھلائیاں آ گئی ہیں ) ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3500]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، لكن الدعاء حسن، الروض النضير (1167)، غاية المرام (112)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3500) إسناده ضعيف ¤ الجريري اختلط (تقدم:2058)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 13512) (ضعیف) (دعا کا حصہ حسن ہے، بقیہ ضعیف، سند میں راوی ”سعید بن ایاس جریری“ مختلط ہو گئے تھے، اور ”عبد الحمید الھلالی“ بہت غلطیاں کرتے تھے، مگر نفس اس دعاء کے الفاظ ابوموسیٰ رضی الله عنہ کی روایت سے تقویت پا کر دعا کا ٹکڑا حسن ہے، ملاحظہ ہو: غایة المرام رقم 112)