📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي

Jami at-Tirmidhi (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
📁 کتاب: نماز کے احکام و مسائل (كتاب الصلاة) 🏷️ باب: باب: بکریوں کے باڑوں اور اونٹ باندھنے کی جگہوں میں نماز پڑھنے کا بیان۔
عربی:
اردو:
جامع الترمذي حدیث نمبر: 348 Jami at-Tirmidhi 348
کتاب #2: کتاب: نماز کے احکام و مسائل
147: باب مَا جَاءَ فِي الصَّلاَةِ فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ وَأَعْطَانِ الإِبِلِ
باب: بکریوں کے باڑوں اور اونٹ باندھنے کی جگہوں میں نماز پڑھنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَلُّوا فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ وَلَا تُصَلُّوا فِي أَعْطَانِ الْإِبِلِ ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھو ۱؎ اور اونٹ باندھنے کی جگہ میں نہ پڑھو “ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 348]
💡 وضاحت:
۱؎: «صلوا في مرابض الغنم» میں امر اباحت کے لیے ہے یعنی بکریوں کے باڑوں میں نماز پڑھنا جائز اور مباح ہے تم اس میں نماز پڑھ سکتے ہو اور «ولا تصلوا في أعطان الإبل» میں نہی تحریمی ہے، یعنی حرام ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (768)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف، (تحفة الأشراف: 14567)، وانظر مسند احمد (2/451، 491، 508) (صحیح)
جامع الترمذي • حدیث #348
346 347 348 349 350

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#349 حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِ...
اس سند سے بھی اسی کے مثل یا اسی جیسی حدیث مروی ہے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- ابوہریرہ رضی الله ع...
#350 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي التَّ...
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھتے تھ...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ