جامع الترمذي حدیث نمبر: 3477
Jami at-Tirmidhi 3477
کتاب #49: کتاب: مسنون ادعیہ و اذکار
65: باب مِنْهُ
باب:۔۔۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ مَالِكٍ الْجَنْبِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ، يَقُولُ: سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَدْعُو فِي صَلَاتِهِ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَجِلَ هَذَا "، ثُمَّ دَعَاهُ، فَقَالَ لَهُ أَوْ لِغَيْرِهِ: " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَبْدَأْ بِتَحْمِيدِ اللَّهِ وَالثَّنَاءِ عَلَيْهِ، ثُمَّ لَيُصَلِّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ لَيَدْعُ بَعْدُ بِمَا شَاءَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
فضالہ بن عبید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو نماز کے اندر ۱؎ دعا کرتے ہوئے سنا ، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر صلاۃ ( درود ) نہ بھیجا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس نے جلدی کی “ ، پھر آپ نے اسے بلایا ، اور اس سے اور اس کے علاوہ دوسروں کو خطاب کر کے فرمایا ، ” جب تم میں سے کوئی بھی نماز پڑھ چکے ۲؎ تو اسے چاہیئے کہ وہ پہلے اللہ کی حمد و ثنا بیان کرے ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر صلاۃ ( درود ) بھیجے ، پھر اس کے بعد وہ جو چاہے دعا مانگے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3477]
💡 وضاحت:
۱؎: نماز کے اندر سے مراد ہے کہ آخری رکعت میں درود کے بعد اور سلام سے پہلے نماز میں دعا کا یہی محل ہے جس کے بارے میں اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ دعا میں کوشش کرو۔
۲؎: یعنی: پوری نماز سے فارغ ہو کر صرف سلام کرنا باقی رہ جائے، یہ معنی اس لیے لینا ہو گا کہ اسی حدیث میں آ چکا ہے کہ پہلے شخص نے نماز کے اندر دعا کی تھی اس پر آپ نے فرمایا تھا کہ ”اس نے صلاۃ (درود) نہ بھیج کر جلدی کی“، نیز دعا اللہ سے قرب کے وقت زیادہ قبول ہوتی ہے اور بندہ سلام سے پہلے اللہ سے بنسبت سلام کے بعد زیادہ قریب ہوتا ہے، ویسے سلام بعد بھی دعا کی کی جا سکتی ہے، مگر شرط وہی ہے کہ پہلے حمد و ثنا اور درود و سلام کا نذرانہ پیش کر لے۔
۲؎: یعنی: پوری نماز سے فارغ ہو کر صرف سلام کرنا باقی رہ جائے، یہ معنی اس لیے لینا ہو گا کہ اسی حدیث میں آ چکا ہے کہ پہلے شخص نے نماز کے اندر دعا کی تھی اس پر آپ نے فرمایا تھا کہ ”اس نے صلاۃ (درود) نہ بھیج کر جلدی کی“، نیز دعا اللہ سے قرب کے وقت زیادہ قبول ہوتی ہے اور بندہ سلام سے پہلے اللہ سے بنسبت سلام کے بعد زیادہ قریب ہوتا ہے، ویسے سلام بعد بھی دعا کی کی جا سکتی ہے، مگر شرط وہی ہے کہ پہلے حمد و ثنا اور درود و سلام کا نذرانہ پیش کر لے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح انظر ما قبله بحديث
تخریج دارالدعوہ:
انظر ماقبلہ (صحیح)