📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي

Jami at-Tirmidhi (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
📁 کتاب: مسنون ادعیہ و اذکار (كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم) 🏷️ باب: باب: تسبیح، تکبیر، تہلیل اور تحمید کی فضیلت کا بیان۔
عربی:
اردو:
جامع الترمذي حدیث نمبر: 3461 Jami at-Tirmidhi 3461
کتاب #49: کتاب: مسنون ادعیہ و اذکار
58: باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ التَّسْبِيحِ وَالتَّكْبِيرِ وَالتَّهْلِيلِ وَالتَّحْمِيدِ
باب: تسبیح، تکبیر، تہلیل اور تحمید کی فضیلت کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْعَطَّارُ، حَدَّثَنَا أَبُو نَعَامَةَ السَّعْدِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ، فَلَمَّا قَفَلْنَا أَشْرَفْنَا عَلَى الْمَدِينَةِ فَكَبَّرَ النَّاسُ تَكْبِيرَةً وَرَفَعُوا بِهَا أَصْوَاتَهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَصَمَّ وَلَا غَائِبٍ هُوَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ رُءُوسِ رِحَالِكُمْ، ثُمَّ قَالَ: يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسِ أَلَا أُعَلِّمُكَ كَنْزًا مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ اسْمُهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُلٍّ، وَأَبُو نَعَامَةَ اسْمُهُ عَمْرُو بْنُ عِيسَى، وَمَعْنَى قَوْلِهِ: هُوَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ رُءُوسِ رِحَالِكُمْ إِنَّمَا يَعْنِي عِلْمَهُ وَقُدْرَتَهُ.
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوے میں تھے ، جب ہم واپس پلٹے اور مدینہ کے قریب پہنچے تو لوگوں نے تکبیر کہی اور بلند آواز سے کہی ، آپ نے فرمایا : ” تمہارا رب بہرا نہیں ہے اور نہ ہی وہ غائب ہے ، وہ تمہارے درمیان اور تمہاری سواریوں کے درمیان موجود ہے ، پھر آپ نے فرمایا : ” عبداللہ بن قیس ! کیا میں تمہیں جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ نہ بتا دوں ؟ وہ : «لا حول ولا قوة إلا بالله» ہے ، یعنی حرکت و قوت اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر نہیں ہے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- ابوعثمان النہدی کا نام عبدالرحمٰن بن مل ہے ، ¤ ۳- اور ابونعامہ کا نام عمرو بن عیسیٰ ہے ، ¤ ۴- آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول «بينكم وبين رءوس رحالكم» سے مراد یہ ہے کہ اس کا علم اور قدرت ہر جگہ ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3461]
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (3824)
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم 3374 (صحیح)
جامع الترمذي • حدیث #3461
3460 3460 3461 3462 3463

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#3460 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي بَ...
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” زمین پر جو کوئی ...
#3460 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي بَ...
اس سند سے حاتم بن ابی صغیرہ سے ، حاتم نے ابوبلج سے ، ابوبلج نے عمرو بن میمون سے ، عمرو بن میمون نے ع...
#3460 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي بَ...
اس سند سے شعبہ نے ابوبلج سے اسی طرح روایت کی اور انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3460...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ