📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي

Jami at-Tirmidhi (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
📁 کتاب: مسنون ادعیہ و اذکار (كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم) 🏷️ باب: باب: آدمی جب کسی منزل پر اترے تو کیا پڑھے؟
عربی:
اردو:
جامع الترمذي حدیث نمبر: 3437 Jami at-Tirmidhi 3437
کتاب #49: کتاب: مسنون ادعیہ و اذکار
41: باب مَا جَاءَ مَا يَقُولُ إِذَا نَزَلَ مَنْزِلاً
باب: آدمی جب کسی منزل پر اترے تو کیا پڑھے؟
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَعْقُوبَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمٍ السُّلَمِيَّةِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ نَزَلَ مَنْزِلًا ثُمَّ قَالَ: أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ لَمْ يَضُرَّهُ شَيْءٌ حَتَّى يَرْتَحِلَ مِنْ مَنْزِلِهِ ذَلِكَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ، وَرَوَى مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ هَذَا الْحَدِيثَ أَنَّهُ بَلَغَهُ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ الْأَشَجِّ، فَذَكَرَ نَحْوَ هَذَا الْحَدِيثِ، وَرُوِي عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ هَذَا الْحَدِيثُ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، وَيَقُولُ: عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ خَوْلَةَ، قَالَ: وَحَدِيثُ اللَّيْثِ أَصَحُّ مِنْ رِوَايَةِ ابْنِ عَجْلَانَ.
خولہ بنت حکیم سلمیہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص کسی منزل پر اترے اور یہ دعا پڑھے : «أعوذ بكلمات الله التامات من شر ما خلق» ” میں اللہ کے مکمل کلموں کے ذریعہ اللہ کی پناہ میں آتا ہوں اس کی ساری مخلوقات کے شر سے “ ، تو جب تک کہ وہ اپنی اس منزل سے کوچ نہ کرے اسے کوئی چیز نقصان نہ پہنچائے گی “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے ، ¤ ۲- مالک بن انس نے یہ حدیث اس طرح روایت کی کہ انہیں یہ حدیث یعقوب بن عبداللہ بن اشج سے پہنچی ہے ، پھر انہوں نے اسی جیسی حدیث بیان کی ۔ ( یعنی : مالک نے یہ حدیث بلاغاً روایت کی ہے ) ¤ ۳- یہ حدیث ابن عجلان سے بھی آئی ہے اور انہوں نے یعقوب بن عبداللہ بن اشج سے روایت کی ہے ، البتہ ان کی روایت میں «عن سعيد بن المسيب عن خولة» ہے ، ¤ ۴- لیث کی حدیث ابن عجلان کی روایت کے مقابل میں زیادہ صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3437]
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (3547)
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الذکر والدعاء 16 (2708)، سنن ابن ماجہ/الطب 46 (3547) (تحفة الأشراف: 15826) (صحیح)
جامع الترمذي • حدیث #3437
3435 3436 3437 3438 3439
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ