جامع الترمذي حدیث نمبر: 3431
Jami at-Tirmidhi 3431
کتاب #49: کتاب: مسنون ادعیہ و اذکار
38: باب مَا يَقُولُ إِذَا رَأَى مُبْتَلًى
باب: جب کوئی کسی کو مصیبت میں مبتلا دیکھے تو کیا کہے؟
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ مَوْلَى آلِ الزُّبَيْرِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ رَأَى صَاحِبَ بَلَاءٍ، فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي عَافَانِي مِمَّا ابْتَلَاكَ بِهِ، وَفَضَّلَنِي عَلَى كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقَ تَفْضِيلًا، إِلَّا عُوفِيَ مِنْ ذَلِكَ الْبَلَاءِ كَائِنًا مَا كَانَ مَا عَاشَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَفِي الْبَابِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَهْرَمَانِ آلِ الزُّبَيْرِ هُوَ شَيْخٌ بَصْرِيٌّ وَلَيْسَ هُوَ بِالْقَوِيِّ فِي الْحَدِيثِ، وَقَدْ تَفَرَّدَ بِأَحَادِيثَ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، أَنَّهُ قَالَ: إِذَا رَأَى صَاحِبَ بَلَاءٍ فَتَعَوَّذَ مِنْهُ يَقُولُ ذَلِكَ فِي نَفْسِهِ وَلَا يُسْمِعُ صَاحِبَ الْبَلَاءِ.
عمر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص مصیبت میں گرفتار کسی شخص کو دیکھے اور کہے : «الحمد لله الذي عافاني مما ابتلاك به وفضلني على كثير ممن خلق تفضيلا» ” سب تعریف اللہ کے لیے ہے کہ جس نے مجھے اس بلا و مصیبت سے بچایا جس سے تجھے دوچار کیا ، اور مجھے فضیلت دی ، اپنی بہت سی مخلوقات پر “ ، تو وہ زندگی بھر ہر بلا و مصیبت سے محفوظ رہے گا خواہ وہ کیسی ہو “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ¤ ۲- اور عمرو بن دینار آل زبیر کے خزانچی ہیں اور بصریٰ شیخ ہیں اور حدیث میں زیادہ قوی نہیں ہیں ، اور یہ سالم بن عبداللہ بن عمر سے کئی احادیث کی روایت میں منفرد ہیں ، ¤ ۳- ابو جعفر محمد بن علی سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : جب آدمی کسی کو مصیبت میں گرفتار دیکھے تو اس بلا سے آہستہ سے پناہ مانگے مصیبت زدہ شخص کو نہ سنائے ، ¤ ۴- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3431]
قال الشيخ الألباني:
حسن، ابن ماجة (3892)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3431) إسناده ضعيف / جه 3892 ¤ عمرو بن دينار قهرمان آل الزبير ضعيف (تقدم:3429) وللحديث شواهد ضعيفة . و روي البزار(البحر الزخار 185/12 ح5838) بسند حسن عن ابن عمر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ”من رأي مصابًا فقال: الحمد لله الذى عافاني مما ابتلاك به وفضلني على كثير ممن خلق تفصيلاً . لم يصبه ذلك البلاء أبدًا .“ و رواه الطبراني فى الاوسط (5320) وحسنة ابن القطان الفاسي فى أحكام النظر (ص421)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الدعاء 22 (3892) (تحفة الأشراف: 10532) (حسن) (سند میں عمرو بن دینار قھر مان آل زبیر ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث حسن لغیرہ ہے، دیکھیے اگلی حدیث)