جامع الترمذي حدیث نمبر: 342
Jami at-Tirmidhi 342
کتاب #2: کتاب: نماز کے احکام و مسائل
144: باب مَا جَاءَ أَنَّ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ قِبْلَةٌ
باب: مشرق اور مغرب کے درمیان میں جو ہے سب قبلہ ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي مَعْشَرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ قِبْلَةٌ ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مشرق ( پورب ) اور مغرب ( پچھم ) کے درمیان جو ہے سب قبلہ ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 342]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ ان ملکوں کے لیے ہے جو قبلے کے شمال (اُتر) یا جنوب (دکھن) میں واقع ہیں، جیسے مدینہ (شمال میں) اور یمن (جنوب میں) اور بر صغیر ہندو پاک یا مصر وغیرہ کے لوگوں کے لیے اسی کو یوں کہا جائیگا ”شمال اور جنوب کے درمیان جو فضا کا حصہ ہے وہ سب قبلہ ہے“ یعنی اپنے ملک کے قبلے کی سمت میں ذرا سا ٹیڑھا کھڑا ہونے میں (جو جان بوجھ کر نہ ہو) کوئی حرج نہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (1011)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الإقامة 56 (1011)، (تحفة الأشراف: 15124) (صحیح)