📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي

Jami at-Tirmidhi (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
📁 کتاب: مسنون ادعیہ و اذکار (كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم) 🏷️ باب: باب: سوتے وقت پڑھی جانے والی دعاؤں سے متعلق ایک اور باب۔
عربی:
اردو:
جامع الترمذي حدیث نمبر: 3401 Jami at-Tirmidhi 3401
کتاب #49: کتاب: مسنون ادعیہ و اذکار
20: باب مِنْهُ
باب: سوتے وقت پڑھی جانے والی دعاؤں سے متعلق ایک اور باب۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكَّيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ عَنْ فِرَاشِهِ ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهِ فَلْيَنْفُضْهُ بِصَنِفَةِ إِزَارِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي مَا خَلَفَهُ عَلَيْهِ بَعْدَهُ، فَإِذَا اضْطَجَعَ فَلْيَقُلْ: بِاسْمِكَ رَبِّي وَضَعْتُ جَنْبِي وَبِكَ أَرْفَعُهُ، فَإِنْ أَمْسَكْتَ نَفْسِي فَارْحَمْهَا، وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا فَاحْفَظْهَا بِمَا تَحْفَظُ بِهِ عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ، فَإِذَا اسْتَيْقَظَ فَلْيَقُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي عَافَانِي فِي جَسَدِي، وَرَدَّ عَلَيَّ رُوحِي، وَأَذِنَ لِي بِذِكْرِهِ "، قَالَ: وَفِي الْبَابِ، عَنْ جَابِرٍ، وَعَائِشَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَرَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ وَقَالَ: فَلْيَنْفُضْهُ بِدَاخِلَةِ إِزَارِهِ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب کوئی تم میں سے اپنے بستر پر سے اٹھ جائے پھر لوٹ کر اس پر ( لیٹنے ، بیٹھنے ) آئے تو اسے چاہیئے کہ اپنے ازار ( تہبند ، لنگی ) کے ( پلو ) کو نے اور کنارے سے تین بار بستر کو جھاڑ دے ، اس لیے کہ اسے کچھ پتہ نہیں کہ اس کے اٹھ کر جانے کے بعد وہاں کون سی چیز آ کر بیٹھی یا چھپی ہے ، پھر جب لیٹے تو کہے : «باسمك ربي وضعت جنبي وبك أرفعه فإن أمسكت نفسي فارحمها وإن أرسلتها فاحفظها بما تحفظ به عبادك الصالحين» ” اے میرے رب ! میں تیرا نام لے کر ( اپنے بستر پر ) اپنے پہلو کو ڈال رہا ہوں یعنی سونے جا رہا ہوں ، اور تیرا ہی نام لے کر میں اسے اٹھاؤں گا بھی ، پھر اگر تو میری جان کو ( سونے ہی کی حالت میں ) روک لیتا ہے ( یعنی مجھے موت دے دیتا ہے ) تو میری جان پر رحم فرما ، اور اگر تو سونے دیتا ہے تو اس کی ویسی ہی حفاظت فرما جیسی کہ تو اپنے نیک و صالح بندوں کی حفاظت کرتا ہے “ ، پھر نیند سے بیدار ہو جائے تو اسے چاہیئے کہ کہے : «الحمد لله الذي عافاني في جسدي ورد علي روحي وأذن لي بذكره» ” تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے میرے بدن کو صحت مند رکھا ، اور میری روح مجھ پر لوٹا دی اور مجھے اپنی یاد کی اجازت ( اور توفیق ) دی “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حدیث حسن ہے ، ¤ ۲- بعض دوسرے راویوں نے بھی یہ حدیث روایت کی ہے ، اور اس روایت میں انہوں نے «فلينفضه بداخلة إزاره» کا لفظ استعمال کیا ہے «بداخلة إزاره» سے مراد تہبند کا اندر والا حصہ ہے ، ¤ ۳- اس باب میں جعفر اور عائشہ رضی الله عنہا سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3401]
قال الشيخ الألباني: حسن الكلم الطيب (34)
قال الشيخ زبیر علی زئی: (3401) إسناده ضعيف ¤ محمد بن عجلان عنعن (تقدم:1084) ولم أجد تصريح سماعه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الدعوات 13 (6320)، والتوحید 13 (7393) (تعلیقا ومتصلا) صحیح مسلم/الذکر والدعاء 17 (2714)، سنن ابی داود/ الأدب 107 (5050)، سنن النسائی/عمل الیوم واللیلة 258 (890)، سنن ابن ماجہ/الدعاء 15 (3874) (تحفة الأشراف: 13037)، وسنن الدارمی/الاستئذان 51 (2726) (حسن) (فإذا استيقظت صحیحین میں نہیں ہے)
جامع الترمذي • حدیث #3401
3399 3400 3401 3402 3403
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ