جامع الترمذي حدیث نمبر: 3369
Jami at-Tirmidhi 3369
کتاب #48: کتاب: تفسیر قرآن کریم
94: باب مِنْهُ
باب:۔۔۔
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ الْأَرْضَ جَعَلَتْ تَمِيدُ، فَخَلَقَ الْجِبَالَ، فَعَادَ بِهَا عَلَيْهَا فَاسْتَقَرَّتْ، فَعَجِبَتِ الْمَلَائِكَةُ مِنْ شِدَّةِ الْجِبَالِ، قَالُوا: يَا رَبِّ هَلْ مِنْ خَلْقِكَ شَيْءٌ أَشَدُّ مِنَ الْجِبَالِ؟ قَالَ: نَعَمِ، الْحَدِيدُ، قَالُوا: يَا رَبِّ فَهَلْ مِنْ خَلْقِكَ شَيْءٌ أَشَدُّ مِنَ الْحَدِيدِ؟ قَالَ: نَعَمِ، النَّارُ، فَقَالُوا: يَا رَبِّ فَهَلْ مِنْ خَلْقِكَ شَيْءٌ أَشَدُّ مِنَ النَّارِ؟ قَالَ: نَعَمِ، الْمَاءُ، قَالُوا: يَا رَبِّ فَهَلْ مِنْ خَلْقِكَ شَيْءٌ أَشَدُّ مِنَ الْمَاءِ؟ قَالَ: نَعَمِ، الرِّيحُ، قَالُوا: يَا رَبِّ فَهَلْ مِنْ خَلْقِكَ شَيْءٌ أَشَدُّ مِنَ الرِّيحِ؟ قَالَ: نَعَمِ، ابْنُ آدَمَ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ بِيَمِينِهِ يُخْفِيهَا مِنْ شِمَالِهِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب اللہ نے زمین بنائی تو وہ ہلنے لگی چنانچہ اللہ نے پہاڑ بنائے اور ان سے کہا : اسے تھامے رہو ، تو زمین ٹھہر گئی ، ( اس کا ہلنا و جھکنا بند ہو گیا ) فرشتوں کو پہاڑوں کی سختی و مضبوطی دیکھ کر بڑی حیرت ہوئی ، انہوں نے کہا : اے میرے رب ! کیا آپ کی مخلوق میں پہاڑ سے بھی زیادہ ٹھوس کوئی چیز ہے ؟ اللہ نے فرمایا : ” ہاں ، لوہا ہے “ ، انہوں نے کہا : اے ہمارے رب ! کیا آپ کی مخلوق میں لوہے سے بھی طاقتور کوئی چیز ہے ؟ اللہ نے فرمایا : ” ہاں ، آگ ہے “ ، انہوں نے کہا : اے میرے رب ! کیا آپ کی مخلوق میں آگ سے بھی زیادہ طاقتور کوئی چیز ہے ؟ اللہ نے فرمایا : ” ہاں ، پانی ہے “ ، انہوں نے کہا : اے ہمارے رب ! کیا آپ کی مخلوق میں پانی سے بھی زیادہ طاقتور کوئی چیز ہے ؟ اللہ نے فرمایا : ” ہاں ، ہوا ہے “ ، انہوں نے عرض کیا : اے ہمارے رب ! کیا آپ کی مخلوق میں ہوا سے بھی زیادہ طاقتور کوئی مخلوق ہے ۔ اللہ نے فرمایا : ” ہاں ، ابن آدم ہے جو اپنے داہنے سے اس طرح صدقہ دیتا کہ اس کے بائیں ہاتھ کو خبر نہیں ہونے پاتی ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث غریب ہے ، اسے ہم صرف اسی سند سے مرفوع جانتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3369]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، المشكاة (1923)، التعليق الرغيب (2 / 31) // ضعيف الجامع الصغير (4770) //
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 871) (ضعیف) (سند میں سلیمان بن ابی سلیمان الھاشمی لین الحدیث راوی ہیں)