جامع الترمذي حدیث نمبر: 3356
Jami at-Tirmidhi 3356
کتاب #48: کتاب: تفسیر قرآن کریم
88: باب وَمِنْ سُورَةِ التَّكَاثُرِ
باب: سورۃ اتکاثر سے بعض آیات کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةَ: ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ سورة التكاثر آية 8، قَالَ الزُّبَيْرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَيُّ النَّعِيمِ نُسْأَلُ عَنْهُ وَإِنَّمَا هُمَا الْأَسْوَدَانِ التَّمْرُ وَالْمَاءُ؟ قَالَ: " أَمَا إِنَّهُ سَيَكُونُ ". قال: هذا حديث حَسَنٌ.
زبیر بن عوام رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت «ثم لتسألن يومئذ عن النعيم» ” اس دن تم سے ضرور بالضرور نعمتوں کا سوال ہو گا “ ( التکاثر : ۸ ) ، نازل ہوئی تو زبیر رضی الله عنہ نے کہا : اللہ کے رسول ! کن نعمتوں کے بارے میں ہم سے پوچھا جائے گا ؟ ہمیں تو صرف دو ہی ( کالی ) نعمتیں حاصل ہیں ، ایک کھجور اور دوسرے پانی ۱؎ آپ نے فرمایا : ” عنقریب وہ بھی ہو جائیں گی “ ۲؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3356]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی ان دونوں نعمتوں کے بارے میں بھی پوچھا جائے گا، اور دوسرے اور بہت سی نعمتیں بھی حاصل ہو جائیں گی۔
۲؎: مدینہ کی کھجوریں عموماً کالی ہوتی تھیں، اور پانی کو غالباً کالا کہہ دیا جاتا تھا اس لیے ان دونوں کو عرب «الاسودان» (دو کالے کھانے) کہا کرتے تھے۔
۲؎: مدینہ کی کھجوریں عموماً کالی ہوتی تھیں، اور پانی کو غالباً کالا کہہ دیا جاتا تھا اس لیے ان دونوں کو عرب «الاسودان» (دو کالے کھانے) کہا کرتے تھے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن الإسناد
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الزہد 12 (4158) (تحفة الأشراف: 3625) (حسن)