جامع الترمذي حدیث نمبر: 3352
Jami at-Tirmidhi 3352
کتاب #48: کتاب: تفسیر قرآن کریم
86: باب وَمِنْ سُورَةِ لَمْ يَكُنْ
باب: سورۃ «لم یکن» سے بعض آیات کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ، قَال: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا خَيْرَ الْبَرِيَّةِ، قَالَ: " ذَلِكَ إِبْرَاهِيمُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ، عَنْ أَنَسٍ، نَحْوَهُ.
مختار بن فلفل کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی الله عنہ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا : «يا خير البرية» ! اے تمام مخلوق میں بہتر ! آپ نے فرمایا : ” یہ ابراہیم علیہ السلام ہیں “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3352]
💡 وضاحت:
۱؎: ایسا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تواضعاً اور ابراہیم علیہ السلام کے لیے احتراماً فرمایا تھا، ورنہ آپ خود اپنے فرمان کے مطابق: «سید ولد آدم» ہیں، اور یہی ہمارا عقیدہ ہے جو قرآن و حدیث سے ثابت ہے مولف یہ حدیث ارشاد باری تعالیٰ «أولئك هم خير البرية» (البينة: ۷) کی تفسیر میں لائے ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الفضائل 41 (2369)، سنن ابی داود/ السنة 14 (4672) (تحفة الأشراف: 1574)، وحإ (3/178، 184) (صحیح)