جامع الترمذي حدیث نمبر: 333
Jami at-Tirmidhi 333
کتاب #2: کتاب: نماز کے احکام و مسائل
136: باب مَا جَاءَ فِي الصَّلاَةِ عَلَى الْبُسُطِ
باب: بچھونے پر نماز پڑھنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ الضُّبَعِيِّ، قَال: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَالِطُنَا حَتَّى إِنْ كَانَ يَقُولُ لِأَخٍ لِي صَغِيرٍ: يَا أَبَا عُمَيْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ، قَالَ: وَنُضِحَ بِسَاطٌ لَنَا فَصَلَّى عَلَيْهِ "قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَنْ بَعْدَهُمْ لَمْ يَرَوْا بِالصَّلَاةِ عَلَى الْبِسَاطِ وَالطُّنْفُسَةِ بَأْسًا، وَبِهِ يَقُولُ: أَحْمَدُ , وَإِسْحَاق، وَاسْمُ أَبِي التَّيَّاحِ: يَزِيدُ بْنُ حُمَيْدٍ.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے گھل مل جایا کرتے تھے ۔ یہاں تک کہ آپ میرے چھوٹے بھائی سے کہتے : ابوعمیر ! «ما فعل النغير» ” بلبل کا کیا ہوا ؟ “ ہماری چٹائی ۱؎ پر چھڑکاؤ کیا گیا پھر آپ نے اس پر نماز پڑھی ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- انس کی حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے ، ¤ ۳- صحابہ کرام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اکثر اہل علم کا عمل اسی پر ہے ۔ وہ چادر اور قالین پر نماز پڑھنے میں کوئی قباحت نہیں سمجھتے یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 333]
💡 وضاحت:
۱؎: «بساط» یعنی بچھاون سے مراد چٹائی ہے کیونکہ یہ زمین پر بچھائی جاتی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (3720 - 3740)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأدب 81 (6129)، و112 (6203)، صحیح مسلم/المساجد 48 (659)، سنن ابن ماجہ/الأدب 24 (3720)، (تحفة الأشراف: 1692)، مسند احمد (3/212)، ویأتي عند المؤلف في البر والصلة برقم: (1989) (صحیح)