جامع الترمذي حدیث نمبر: 3310
Jami at-Tirmidhi 3310
کتاب #48: کتاب: تفسیر قرآن کریم
62: باب وَمِنْ سُورَةِ الْجُمُعَةِ
باب: سورۃ الجمعہ سے بعض آیات کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي ثَوْرُ بْنُ زَيْدٍ الدِّيلِيُّ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أُنْزِلَتْ سُورَةُ الْجُمُعَةِ فَتَلَاهَا، فَلَمَّا بَلَغَ: وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ سورة الجمعة آية 3، قَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِنَا؟ فَلَمْ يُكَلِّمْهُ، قَالَ: وَسَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ فِينَا، قَالَ: فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَى سَلْمَانَ، فَقَالَ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ كَانَ الْإِيمَانُ بِالثُّرَيَّا لَتَنَاوَلَهُ رِجَالٌ مِنْ هَؤُلَاءِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ هُوَ وَالِدُ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ ضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ، ثَوْرُ بْنُ زَيْدٍ مَدَنِيٌّ، وَثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ شَامِيٌّ، وَأَبُو الْغَيْثِ اسْمُهُ سَالِمٌ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُطِيعٍ مَدَنِيٌّ ثِقَةٌ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جس وقت سورۃ الجمعہ نازل ہوئی اس وقت ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے ، آپ نے اس کی تلاوت کی ، جب آپ «وآخرين منهم لما يلحقوا بهم» ” اور اللہ نے اس نبی کو ان میں سے ان دوسرے لوگوں کے لیے بھی بھیجا ہے جو اب تک ان سے ملے نہیں ہیں “ ( الجمعۃ : ۳ ) ، پر پہنچے تو ایک شخص نے آپ سے پوچھا : اللہ کے رسول ! وہ کون لوگ ہیں جو اب تک ہم سے نہیں ملے ہیں ؟ ( آپ خاموش رہے ) اس سے کوئی بات نہ کی ، سلمان ( فارسی ) رضی الله عنہ ہمارے درمیان موجود تھے ، آپ نے اپنا ہاتھ سلمان پر رکھ کر فرمایا : ” قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، اگر ایمان ثریا پر ہوتا تو بھی ( اتنی بلندی اور دوری پر پہنچ کر ) ان کی قوم کے لوگ اسے حاصل کر کے ہی رہتے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث غریب ہے ، اور عبداللہ بن جعفر ، علی بن المدینی کے والد ہیں ، یحییٰ بن معین نے انہیں ضعیف کہا ہے ، ¤ ۲- ثور بن زید مدنی ہیں ، اور ثور بن یزید شامی ہیں ، اور ابوالغیث کا نام سالم ہے ، یہ عبداللہ بن مطیع کے آزاد کردہ غلام ہیں ، مدنی اور ثقہ ہیں ، ¤ ۳- یہ حدیث ابوہریرہ رضی الله عنہ کے واسطے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دوسری سندوں سے بھی آئی ہے ( اور اسی بنیاد پر صحیح ہے ) ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3310]
💡 وضاحت:
۱؎: سورۃ «محمد» آیت نمبر ۳۸ «وإن تتولوا يستبدل قوما غيركم» (محمد: ۳۸) کی تفسیر میں بھی یہی حدیث (رقم ۳۲۶۰) مؤلف لائے ہیں، حافظ ابن حجر کہتے ہیں: ”دونوں آیات کے نزول پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا فرمایا ہو، ایسا بالکل ممکن ہے“۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الصحيحة (1027)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/تفسیر الجمعة 1 (4897)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 59 (2546/231) (تحفة الأشراف: 12917) (صحیح)