جامع الترمذي حدیث نمبر: 3295
Jami at-Tirmidhi 3295
کتاب #48: کتاب: تفسیر قرآن کریم
56: باب وَمِنْ سُورَةِ الْوَاقِعَةِ
باب: سورۃ الواقعہ سے بعض آیات کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا إسْرَائِيلُ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَتَجْعَلُونَ رِزْقَكُمْ أَنَّكُمْ تُكَذِّبُونَ سورة الواقعة آية 82 قَالَ: شُكْرُكُمْ تَقُولُونَ مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا، وَبِنَجْمِ كَذَا وَكَذَا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ، لَا نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا إِلَّا مِنْ حَدِيثِ إِسْرَائِيلَ، وَرَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، نَحْوَهُ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ. حَدَّثَنَا بِذَلِكَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ.
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «وتجعلون رزقكم أنكم تكذبون» ” اور تم اپنے رزق ( کا شکریہ یہ ادا کرتے ہو کہ ) تم ( اللہ کی رزاقیت کی ) تکذیب کرتے ہو “ ( الواقعہ : ۸۲ ) ، کے متعلق فرمایا : ” تمہارا «شكر» یہ ہوتا ہے : تم کہتے ہو کہ یہ بارش فلاں فلاں نچھتر کے باعث اور فلاں فلاں ستاروں کی گردش کی بدولت ہوئی ہے ۔ اس طرح تم جھوٹ بول کر حقیقت کو جھٹلاتے ہو “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے ، ہم اسے اسرائیل کی روایت کے سوا اور کسی سند سے مرفوع نہیں جانتے ، ¤ ۲- اس حدیث کو سفیان ثوری نے عبدالاعلی سے ، عبدالاعلیٰ نے ابوعبدالرحمٰن سلمی سے ، اور عبدالرحمٰن نے علی سے اسی طرح روایت کیا ہے ، اور اسے مرفوعاً روایت نہیں کیا ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3295]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3295) إسناده ضعيف ¤ عبد الأعلي الثعلبي ضعيف (تقدم:2950) و حديث مسلم (73/127) يغني عنه
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 10173) (ضعیف الإسناد) (سند میں ”عبد الاعلی بن عامر“ کو وہم ہو جایا کرتا تھا)