جامع الترمذي حدیث نمبر: 3279
Jami at-Tirmidhi 3279
کتاب #48: کتاب: تفسیر قرآن کریم
53: باب وَمِنْ سُورَةِ وَالنَّجْمِ
باب: سورۃ النجم سے بعض آیات کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمْرِو بْنِ نَبْهَانَ بْنِ صَفْوَانَ الْبَصْرِيُّ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ الْعَنْبَرِيُّ أَبُو غَسَّانَ، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: رَأَى مُحَمَّدٌ رَبَّهُ، قُلْتُ: أَلَيْسَ اللَّهُ يَقُولُ: لا تُدْرِكُهُ الأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الأَبْصَارَ سورة الأنعام آية 103 قَالَ: وَيْحَكَ ذَاكَ إِذَا تَجَلَّى بِنُورِهِ الَّذِي هُوَ نُورُهُ، وَقَالَ: أُرِيَهُ وَقَدْ رَأَى مُحَمّدُ رَبَّهُ مَرَّتَيْنِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
عکرمہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما نے کہا : محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے ، میں نے کہا : کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا ہے «لا تدركه الأبصار وهو يدرك الأبصار» ” اس کو آنکھیں نہیں پا سکتی ہیں ہاں وہ خود نگاہوں کو پا لیتا ہے “ ( الانعام : ۱۰۳ ) ، انہوں نے کہا : تم پر افسوس ہے ( تم سمجھ نہیں سکے ) یہ تو اس وقت کی بات ہے جب وہ اپنے ذاتی نور کے ساتھ تجلی فرمائے ، انہوں نے کہا : آپ نے اپنے رب کو دو بار دیکھا ہے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3279]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف ظلال الجنة (190 / 437)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3279) إسناده ضعيف (بل ھو حسن) ¤ محمد بن عمرو بن نبھان البصري مجھول، وثقه الترمذي وحده . . . (وله طريق آخر عند ابن أبى عاصم فى السنة(437) وسنده حسن و رواه ابن خزيمة فى كتاب التوحيد (ص198 ح 273)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) (تحفة الأشراف: 6040) (ضعیف) (سند میں حکم بن ابان سے وہم ہو جایا کرتا تھا)