📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي

Jami at-Tirmidhi (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
📁 کتاب: نماز کے احکام و مسائل (كتاب الصلاة) 🏷️ باب: باب: مسجد کی طرف چل کر جانے کی فضیلت۔
عربی:
اردو:
جامع الترمذي حدیث نمبر: 327 Jami at-Tirmidhi 327
کتاب #2: کتاب: نماز کے احکام و مسائل
132: باب مَا جَاءَ فِي الْمَشْىِ إِلَى الْمَسْجِدِ
باب: مسجد کی طرف چل کر جانے کی فضیلت۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا تَأْتُوهَا وَأَنْتُمْ تَسْعَوْنَ وَلَكِنْ ائْتُوهَا وَأَنْتُمْ تَمْشُونَ وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةَ فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا ". وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي قَتَادَةَ , وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ , وَأَبِي سَعِيدٍ , وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ , وَجَابِرٍ , وَأَنَسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي الْمَشْيِ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَمِنْهُمْ مَنْ رَأَى الْإِسْرَاعَ إِذَا خَافَ فَوْتَ التَّكْبِيرَةِ الْأُولَى، حَتَّى ذُكِرَ عَنْ بَعْضِهِمْ أَنَّهُ كَانَ يُهَرْوِلُ إِلَى الصَّلَاةِ، وَمِنْهُمْ مَنْ كَرِهَ الْإِسْرَاعَ وَاخْتَارَ أَنْ يَمْشِيَ عَلَى تُؤَدَةٍ وَوَقَارٍ، وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ , وَإِسْحَاق، وَقَالَا: الْعَمَلُ عَلَى حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ، وقَالَ إِسْحَاق: إِنْ خَافَ فَوْتَ التَّكْبِيرَةِ الْأُولَى فَلَا بَأْسَ أَنْ يُسْرِعَ فِي الْمَشْيِ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب نماز کی تکبیر ( اقامت ) کہہ دی جائے تو ( نماز میں سے ) اس کی طرف دوڑ کر مت آؤ ، بلکہ چلتے ہوئے اس حال میں آؤ کہ تم پر سکینت طاری ہو ، تو جو پاؤ اسے پڑھو اور جو چھوٹ جائے ، اسے پوری کرو “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- اس باب میں ابوقتادہ ، ابی بن کعب ، ابوسعید ، زید بن ثابت ، جابر اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ¤ ۲- اہل علم کا مسجد کی طرف چل کر جانے میں اختلاف ہے : ان میں سے بعض کی رائے ہے کہ جب تکبیر تحریمہ کے فوت ہونے کا ڈر ہو ، وہ دوڑے یہاں تک کہ بعض لوگوں کے بارے میں مذکور ہے کہ وہ نماز کے لیے قدرے دوڑ کر جاتے تھے اور بعض لوگوں نے دوڑ کر جانے کو مکروہ قرار دیا ہے اور آہستگی و وقار سے جانے کو پسند کیا ہے ۔ یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں ، ان دونوں کا کہنا ہے کہ عمل ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث پر ہے ۔ اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ اگر تکبیر تحریمہ کے چھوٹ جانے کا ڈر ہو تو دوڑ کر جانے میں کوئی مضائقہ نہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 327]
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (775)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجمعة 18 (908)، صحیح مسلم/المساجد 28 (602)، سنن ابی داود/ الصلاة 57 (572)، سنن النسائی/الإمامة 57 (862)، سنن ابن ماجہ/المساجد 14 (775)، (تحفة الأشراف: 15289)، موطا امام مالک/الصلاة 1 (4)، مسند احمد (2/237، 238، 239، 270، 272، 282، 318، 382، 387، 427، 452، 460، 473، 489، 529، 532، 533)، سنن الدارمی/الصلاة 59 (1319) (صحیح)
جامع الترمذي • حدیث #327
325 326 327 328 329

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#328 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، ...
اس سند سے بھی ابوہریرہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کے ساتھ مروی ہے جیسے ابو...
#329 حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّ...
اس سند سے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح مروی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 329]...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ