جامع الترمذي حدیث نمبر: 3267
Jami at-Tirmidhi 3267
کتاب #48: کتاب: تفسیر قرآن کریم
49: باب وَمِنْ سُورَةِ الْحُجُرَاتِ
باب: سورۃ الحجرات سے بعض آیات کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ فِي قَوْلِهِ: " إِنَّ الَّذِينَ يُنَادُونَكَ مِنْ وَرَاءِ الْحُجُرَاتِ أَكْثَرُهُمْ لا يَعْقِلُونَ سورة الحجرات آية 4، قَالَ: فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ حَمْدِي زَيْنٌ وَإِنَّ ذَمِّي شَيْنٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ذَاكَ اللَّهُ تَعَالَى "، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
براء بن عازب رضی الله عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان «إن الذين ينادونك من وراء الحجرات أكثرهم لا يعقلون» ” اے نبی ! جو لوگ آپ کو حجروں کے باہر سے آواز دے کر پکارتے ہیں ، ان کی اکثریت بے عقلوں کی ہے “ ( الحجرات : ۴ ) ، کی تفسیر میں کہتے ہیں : ایک شخص نے ( آپ کے دروازے پر ) کھڑے ہو کر ( پکار کر ) کہا : اللہ کے رسول ! میری تعریف میری عزت ہے اور میری مذمت ذلت ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ صفت تو اللہ کی ہے ( یہ اللہ ہی کی شان ہے ) “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3267]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) (صحیح)