📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي

Jami at-Tirmidhi (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
📁 کتاب: تفسیر قرآن کریم (كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم) 🏷️ باب: باب: سورۃ ص سے بعض آیات کی تفسیر۔
عربی:
اردو:
جامع الترمذي حدیث نمبر: 3233 Jami at-Tirmidhi 3233
کتاب #48: کتاب: تفسیر قرآن کریم
39: باب وَمِنْ سُورَةِ ص
باب: سورۃ ص سے بعض آیات کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، وَعَبْدُ بْنُ حميد، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتَانِي اللَّيْلَةَ رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ، قَالَ: أَحْسَبُهُ قَالَ فِي الْمَنَامِ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ هَلْ تَدْرِي فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى؟ قَالَ: قُلْتُ: لَا، قَالَ: فَوَضَعَ يَدَهُ بَيْنَ كَتِفَيَّ حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَهَا بَيْنَ ثَدْيَيَّ، أَوْ قَالَ: فِي نَحْرِي، فَعَلِمْتُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ، قَالَ: يَا مُحَمَّدُ هَلْ تَدْرِي فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فِي الْكَفَّارَاتِ، وَالْكَفَّارَاتُ: الْمُكْثُ فِي الْمَسَاجِدِ بَعْدَ الصَّلَوَاتِ، وَالْمَشْيُ عَلَى الْأَقْدَامِ إِلَى الْجَمَاعَاتِ، وَإِسْبَاغُ الْوُضُوءِ فِي الْمَكَارِهِ، وَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ عَاشَ بِخَيْرٍ وَمَاتَ بِخَيْرٍ، وَكَانَ مِنْ خَطِيئَتِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ، وَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِذَا صَلَّيْتَ فَقُلْ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ، وَإِذَا أَرَدْتَ بِعِبَادِكَ فِتْنَةً فَاقْبِضْنِي إِلَيْكَ غَيْرَ مَفْتُونٍ، قَالَ: وَالدَّرَجَاتُ إِفْشَاءُ السَّلَامِ، وَإِطْعَامُ الطَّعَامِ، وَالصَّلَاةُ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ ذَكَرُوا بَيْنَ أَبِي قِلَابَةَ، وَبَيْنَ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ رَجُلًا، وَقَدْ رَوَاهُ قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ اللَّجْلَاجِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میرا بزرگ و برتر رب بہترین صورت میں میرے پاس آیا “ ، مجھے خیال پڑتا ہے کہ آپ نے فرمایا : ” - خواب میں - رب کریم نے کہا : اے محمد ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ «ملا ٔ اعلی» ( اونچے مرتبے والے فرشتے ) کس بات پر آپس میں لڑ جھگڑ رہے ہیں “ ، آپ نے فرمایا : ” میں نے کہا کہ میں نہیں جانتا تو اللہ نے اپنا ہاتھ میرے دونوں کندھوں کے بیچ میں رکھ دیا جس کی ٹھنڈک میں نے اپنی چھاتیوں کے درمیان محسوس کی ، یا اپنے سینے میں یا «نحری» کہا ، ( ہاتھ کندھے پر رکھنے کے بعد ) آسمان اور زمین میں جو کچھ ہے ، وہ میں جان گیا ، رب کریم نے فرمایا : اے محمد ! کیا تم جانتے ہو «ملا ٔ اعلی» میں کس بات پر جھگڑا ہو رہا ہے ، ( بحث و تکرار ہو رہی ہے ) ؟ میں نے کہا : ہاں ، کفارات گناہوں کو مٹا دینے والی چیزوں کے بارے میں ( کہ وہ کون کون سی چیزیں ہیں ؟ ) ( فرمایا ) ” کفارات یہ ہیں : ( ۱ ) نماز کے بعد مسجد میں بیٹھ کر دوسری نماز کا انتظار کرنا ، ( ۲ ) پیروں سے چل کر نماز باجماعت کے لیے مسجد میں جانا ، ( ۳ ) ناگواری کے باوجود باقاعدگی سے وضو کرنا ، جو ایسا کرے گا بھلائی کی زندگی گزارے گا ، اور بھلائی کے ساتھ مرے گا اور اپنے گناہوں سے اس طرح پاک و صاف ہو جائے گا جس طرح وہ اس دن پاک و صاف تھا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا ، رب کریم کہے گا : اے محمد ! جب تم نماز پڑھ چکو تو کہو : «اللهم إني أسألك فعل الخيرات وترك المنكرات وحب المساكين وإذا أردت بعبادك فتنة فاقبضني إليك غير مفتون» ” اے اللہ میں تجھ سے بھلے کام کرنے کی توفیق طلب کرتا ہوں ، اور ناپسندیدہ و منکر کاموں سے بچنا چاہتا ہوں اور مسکینوں سے محبت کرنا چاہتا ہوں ، اور جب تو اپنے بندوں کو کسی آزمائش میں ڈالنا چاہیئے تو فتنے میں ڈالے جانے سے پہلے مجھے اپنے پاس بلا لے “ ، آپ نے فرمایا : ” درجات بلند کرنے والی چیزیں ( ۱ ) سلام کو پھیلانا عام کرنا ہے ، ( ۲ ) ( محتاج و مسکین ) کو کھانا کھلانا ہے ، ( ۳ ) رات کو تہجد پڑھنا ہے کہ جب لوگ سو رہے ہوں “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- کچھ محدثین نے ابوقلابہ اور ابن عباس رضی الله عنہما کے درمیان اس حدیث میں ایک شخص کا ذکر کیا ہے ۔ ( اور وہ خالد بن لجلاج ہیں ان روایت کے آگے آ رہی ہے ) ¤ ۲- اس حدیث کو قتادہ نے ابوقلابہ سے روایت کی ہے اور ابوقلابہ نے خالد بن لجلاج سے ، اور خالد بن لجلاج نے ابن عباس سے روایت کی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3233]
💡 وضاحت:
۱؎: مولف نے اس حدیث کو ارشاد باری تعالیٰ «ما كان لي من علم بالملإ الأعلى إذ يختصمون» (ص: 69) کی تفسیر میں ذکر کیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الظلال (388)، التعليق الرغيب (1 / 98 - 126)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 5417) (صحیح)
جامع الترمذي • حدیث #3233
3232 3232 3233 3234 3235

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#3232 حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، نَحْوَهُ، عَنِ الْأَعْمَشِ....
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ابوطالب بیمار پڑے ، تو قریش ان کے پاس آئے ، اور نبی اکرم...
#3232 حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، نَحْوَهُ، عَنِ الْأَعْمَشِ....
‏‏‏‏ اس سند سے سفیان ثوری نے اعمش سے اسی طرح روایت کی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3232M]...
#3234 حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَ...
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجھے میرا رب ( ...
#3235 حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هَانِئٍ أَبُو هَانِئٍ الْيَشْ...
معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھانے سے روک...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ