📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي

Jami at-Tirmidhi (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
📁 کتاب: نماز کے احکام و مسائل (كتاب الصلاة) 🏷️ باب: باب: اس مسجد کا بیان جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ہے۔
عربی:
اردو:
جامع الترمذي حدیث نمبر: 323 Jami at-Tirmidhi 323
کتاب #2: کتاب: نماز کے احکام و مسائل
129: باب مَا جَاءَ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى
باب: اس مسجد کا بیان جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، عَنْ أُنَيْسِ بْنِ أَبِي يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: امْتَرَى رَجُلٌ مِنْ بَنِي خُدْرَةَ وَرَجُلٌ مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى، فَقَالَ الْخُدْرِيُّ: " هُوَ مَسْجِدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ الْآخَرُ: هُوَ مَسْجِدُ قُبَاءٍ، فَأَتَيَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ، فَقَالَ: هُوَ هَذَا يَعْنِي مَسْجِدَهُ وَفِي ذَلِكَ خَيْرٌ كَثِيرٌ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: سَأَلْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَحْيَى الْأَسْلَمِيِّ، فَقَالَ: لَمْ يَكُنْ بِهِ بَأْسٌ، وَأَخُوهُ أُنَيْسُ بْنُ أَبِي يَحْيَى أَثْبَتُ مِنْهُ.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ بنی خدرہ کے ایک شخص اور بنی عمرو بن عوف کے ایک شخص کے درمیان بحث ہو گئی کہ کون سی مسجد ہے جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ۱؎ تو خدری نے کہا : وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد ( یعنی مسجد نبوی ) ہے ، دوسرے نے کہا : وہ مسجد قباء ہے ، چنانچہ وہ دونوں اس سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ نے فرمایا : ” وہ یہ مسجد ہے ، یعنی مسجد نبوی اور اس میں ( یعنی مسجد قباء میں ) بھی بہت خیر و برکت ہے “ ۲؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- علی بن عبداللہ بن المدینی نے یحییٰ بن سعید القطان سے ( سند میں موجود راوی ) محمد بن ابی یحییٰ اسلمی کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : ان میں کوئی قابل گرفت بات نہیں ہے ، اور ان کے بھائی انیس بن ابی یحییٰ ان سے زیادہ ثقہ ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 323]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی سورۃ التوبہ میں ارشاد الٰہی «لمسجد أسس على التقوى من أول يوم» سے کون سی مسجد مراد ہے؟
۲؎: یہ حدیث صرف اس بات پر دلالت نہیں کرتی ہے کہ «لمسجد أسس على التقوى» سے مراد مسجد نبوی ہی ہے، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد یہ تھا کہ اس مسجد نبوی کی بھی تقویٰ پر ہی بنیاد ہے، یہ مطلب لوگوں نے اس لیے لیا ہے کہ قرآن میں سیاق و سباق سے صاف واضح ہوتا ہے کہ یہ ارشاد ربانی مسجد قباء کے بارے میں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 4440) (صحیح)
جامع الترمذي • حدیث #323
321 322 323 324 325
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ