جامع الترمذي حدیث نمبر: 3226
Jami at-Tirmidhi 3226
کتاب #48: کتاب: تفسیر قرآن کریم
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَزِيرٍ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: كَانَتْ بَنُو سَلِمَةَ فِي نَاحِيَةِ الْمَدِينَةِ فَأَرَادُوا النُّقْلَةَ إِلَى قُرْبِ الْمَسْجِدِ، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةَ: إِنَّا نَحْنُ نُحْيِي الْمَوْتَى وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوا وَآثَارَهُمْ سورة يس آية 12، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ آثَارَكُمْ تُكْتَبُ فَلَا تَنْتَقِلُوا "، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ، وَأَبُو سُفْيَانَ هُوَ طَرِيفٌ السَّعْدِيُّ.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ بنو سلمہ ( قبیلہ کے لوگ ) مدینہ کے کسی نواحی علاقہ میں رہتے تھے ۔ انہوں نے وہاں سے منتقل ہو کر مسجد ( نبوی ) کے قریب آ کر آباد ہونے کا ارادہ کیا تو یہ آیت إنا نحن نحي الموتى ونكتب ما قدموا وآثارهم ” ہم مردوں کو زندہ کرتے ہیں اور وہ جو آگے بھیجتے ہیں اسے ہم لکھ لیتے ہیں اور ( مسجد کی طرف آنے و جانے والے ) آثار قدم بھی ہم ( گن کر ) لکھ لیتے ہیں “ ( یس : ۱۲ ) نازل ہوئی ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارے قدم لکھے جاتے ہیں ، اس لیے تم اپنے گھر نہ بدلو “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ثوری سے مروی یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3226]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (785)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3226) إسناده ضعيف ¤ أبوسفيان طريف بن شھاب: ضعيف (تقدم:238) وللحديث شواھد عند ابن ماجه (785) والبزار وابن أبى حاتم وغيرھم دون قوله: ”تنزلت ھذه الاية .“
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 4358) (صحیح)