جامع الترمذي حدیث نمبر: 3219
Jami at-Tirmidhi 3219
کتاب #48: کتاب: تفسیر قرآن کریم
34: باب وَمِنْ سُورَةِ الأَحْزَابِ
باب: سورۃ الاحزاب سے بعض آیات کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ مُجَالِدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ بَيَانٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " بَنَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِامْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهِ، فَأَرْسَلَنِي فَدَعَوْتُ قَوْمًا إِلَى الطَّعَامِ، فَلَمَّا أَكَلُوا وَخَرَجُوا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْطَلِقًا قِبَلَ بَيْتِ عَائِشَةَ، فَرَأَى رَجُلَيْنِ جَالِسَيْنِ فَانْصَرَفَ رَاجِعًا، فَقَامَ الرَّجُلَانِ فَخَرَجَا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ سورة الأحزاب آية 53 "، وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ بَيَانٍ، وَرَوَى ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ هَذَا الْحَدِيثَ بِطُولِهِ.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں میں سے ایک بیوی کے ساتھ شادی والی رات گزاری ، پھر آپ نے مجھے کچھ لوگوں کو کھانے پر بلانے کے لیے بھیجا ۔ جب لوگ کھا پی کر چلے گئے ، تو آپ اٹھے ، عائشہ رضی الله عنہا کے گھر کا رخ کیا پھر آپ کی نظر دو بیٹھے ہوئے آدمیوں پر پڑی ۔ تو آپ ( فوراً ) پلٹ پڑے ( انہیں اس کا احساس ہو گیا ) وہ دونوں اٹھے اور وہاں سے نکل گئے ۔ اسی موقع پر اللہ عزوجل نے آیت «يا أيها الذين آمنوا لا تدخلوا بيوت النبي إلا أن يؤذن لكم إلى طعام غير ناظرين إناه» نازل فرمائی ، اس حدیث میں ایک طویل قصہ ہے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- بیان کی روایت سے یہ حدیث حسن غریب ہے ، ¤ ۲- ثابت نے انس کے واسطہ سے یہ حدیث پوری کی پوری بیان کی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3219]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ قصہ پچھلی حدیث میں گزرا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/النکاح 69 (5170)، وانظر ماقبلہ (تحفة الأشراف: 257) (صحیح)