جامع الترمذي حدیث نمبر: 3210
Jami at-Tirmidhi 3210
کتاب #48: کتاب: تفسیر قرآن کریم
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ قَزَعَةَ البَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا مَسْلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيّ، فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ سورة الأحزاب آية 40، قَالَ: مَا كَانَ لِيَعِيشَ لَهُ فِيكُمْ وَلَدٌ ذَكَرٌ.
عامر شعبی اللہ کے اس قول «ما كان محمد أبا أحد من رجالكم» ” ( لوگو ! ) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نہیں “ ( الاحزاب : ۴۰ ) ، کے بارے میں کہتے ہیں : اس سے مراد زندہ نہ رہنے والی نرینہ اولاد ہے ۱؎ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3210]
💡 وضاحت:
۱؎: ورنہ نرینہ اولاد تو آپ کے یہاں بھی پیدا ہوئی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف مقطوع
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (ضعیف الإسناد) (سند میں ”مسلمہ بن علقمہ“ صدوق ہیں، لیکن ان سے احادیث میں اوہام پائے جاتے ہیں)