📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي

Jami at-Tirmidhi (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
📁 کتاب: تفسیر قرآن کریم (كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم) 🏷️ باب: باب: سورۃ الاحزاب سے بعض آیات کی تفسیر۔
عربی:
اردو:
جامع الترمذي حدیث نمبر: 3207 Jami at-Tirmidhi 3207
کتاب #48: کتاب: تفسیر قرآن کریم
34: باب وَمِنْ سُورَةِ الأَحْزَابِ
باب: سورۃ الاحزاب سے بعض آیات کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: لَوْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَاتِمًا شَيْئًا مِنَ الْوَحْيِ لَكَتَمَ هَذِهِ الْآيَةَ: " وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِي أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ يَعْنِي بِالْإِسْلَامِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ يَعْنِي بِالْعِتْقِ فَأَعْتَقْتَهُ أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللَّهَ وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّهُ مُبْدِيهِ وَتَخْشَى النَّاسَ وَاللَّهُ أَحَقُّ أَنْ تَخْشَاهُ إِلَى قَوْلِهِ وَكَانَ أَمْرُ اللَّهِ مَفْعُولا سورة الأحزاب آية 37، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا تَزَوَّجَهَا، قَالُوا: تَزَوَّجَ حَلِيلَةَ ابْنِهِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ سورة الأحزاب آية 40، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَبَنَّاهُ وَهُوَ صَغِيرٌ، فَلَبِثَ حَتَّى صَارَ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ: زَيْدُ بْنُ مُحَمَّدٍ فَأَنْزَلَ اللَّهُ: ادْعُوهُمْ لآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ سورة الأحزاب آية 5 فُلَانٌ مَوْلَى فُلَانٍ وَفُلَانٌ أَخُو فُلَانٍ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ سورة الأحزاب آية 5 يَعْنِي أَعْدَلُ عِنْدَ اللهِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، قَدْ رُوِيَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " لَوْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَاتِمًا شَيْئًا مِنَ الْوَحْيِ لَكَتَمَ هَذِهِ الْآيَةَ: وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِي أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ سورة الأحزاب آية 37 " هَذَا الْحَرْفُ لَمْ يُرْوَ بِطُولِهِ، حَدَّثَنَا بِذَلِكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَضَّاحٍ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وحی کی کوئی چیز چھپا لینے والے ہوتے تو یہ آیت «وإذ تقول للذي أنعم الله عليه» ” جب آپ اس شخص سے جس پر اللہ نے اسلام کے ذریعہ انعام کیے تھے اور آپ نے بھی ( اسے آزاد کر کے ) اس پر انعام و احسان کیے تھے کہہ رہے تھے کہ اپنی بیوی کو اپنے پاس رہنے دو ( طلاق نہ دو ) اور اللہ سے ڈرو ، اور تم اپنے دل میں وہ بات چھپا رہے تھے جسے اللہ ظاہر کرنا چاہتا تھا تم لوگوں کے ( لعن طعن ) سے ڈرتے تھے اور اللہ اس کا زیادہ سزاوار ہے کہ تم اس سے ڈرو “ ، سے لے کر «وكان أمر الله مفعولا» تک چھپا لیتے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان سے ( زینب سے ) شادی کر لی تو لوگوں نے کہا : آپ نے اپنے ( لے پالک ) بیٹے کی بیوی سے شادی کر لی ، اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت «ما كان محمد أبا أحد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين» ” محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) تم لوگوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں بلکہ وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبین ( آخری نبی ) ہیں “ ، نازل فرمائی ، زید چھوٹے تھے تبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں منہ بولا بیٹا بنا لیا تھا ، وہ برابر آپ کے پاس رہے یہاں تک کہ جوان ہو گئے ، اور ان کو زید بن محمد کہا جانے لگا ، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : «ادعوهم لآبائهم هو أقسط عند الله فإن لم تعلموا آباءهم فإخوانكم في الدين ومواليكم» ” انہیں ان کے ( اصلی باپ کی طرف ) منسوب کر کے پکارو ( جن کے نطفے سے وہ پیدا ہوئے ہیں ) یہ اللہ کے نزدیک زیادہ مبنی بر انصاف بات ہے ، لیکن اگر تم ان کے باپوں کو نہ جانتے ہو ( کہ وہ کون ہیں ) تو وہ تمہارے دینی بھائی اور دوست ہیں “ ، فلاں فلاں کا دوست ہے اور فلاں فلاں کا دینی بھائی ہے ۴؎ ، «هو أقسط عند الله» یہ اللہ کے نزدیک زیادہ انصاف پر مبنی کا مفہوم یہ ہے کہ پورا انصاف ہے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث غریب ہے ۔ اس سند سے مسروق نے عائشہ سے روایت کی ہے ، وہ کہتی ہیں : اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وحی میں سے کچھ چھپانے والے ہوتے تو آپ یہ آیت «وإذ تقول للذي أنعم الله عليه وأنعمت عليه» چھپاتے ، ( اس روایت میں ) یہ حدیث کی پوری روایت نہیں کی گئی ہے ۵؎ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3207]
💡 وضاحت:
۴؎: اگر وہ آزاد ہوں تو ترجمہ ہو گا فلاں فلاں کے دوست، حلیف اور اگر آزاد کردہ غلام ہوں تو ترجمہ ہو گا فلاں فلاں کا آزاد کردہ غلام یہی بات «موالیکم» کے ترجمہ میں بھی ملحوظ رہے۔
۵؎: یعنی: اس حدیث کی دو سندوں میں شعبی کے بعد مسروق کا اضافہ ہے، اور یہی سندیں متصل ہیں (یہ آگے آ رہی ہیں) پہلی سند میں انقطاع ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد جدا
قال الشيخ زبیر علی زئی: (3207) إسناده ضعيف جدًا ¤ داود بن الزبرقان: متروك وكذبه الأزدي (تق:1785) والحديث الاتي (الأصل:3208) يغني عنه
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 16169) (ضعیف الإسناد جداً)
جامع الترمذي • حدیث #3207
3205 3206 3207 3208 3209

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#3199 حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ نَحْوَهُ. قَا...
ابوظبیان کہتے ہیں کہ ہم نے ابن عباس رضی الله عنہما سے کہا : ذرا بتائیں اللہ تعالیٰ کے اس قول «ما جعل...
#3199 حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ نَحْوَهُ. قَا...
اس سند بھی اسی طرح روایت ہے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3199M]...
#3200 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا سُلَيْم...
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میرے چچا انس بن نضر رضی الله عنہ جن کے نام پر میرا نام رکھا گیا تھا جنگ...
#3201 حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ...
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ان کے چچا ( انس بن نضر ) بدر کی لڑائی میں غیر حاضر تھے ، انہ...
#3202 حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَطَّارُ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِ...
موسیٰ بن طلحہ کہتے ہیں کہ میں معاویہ رضی الله عنہ کے پاس گیا تو انہوں نے کہا : کیا میں تمہیں ایک خوش...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ