جامع الترمذي حدیث نمبر: 3177
Jami at-Tirmidhi 3177
کتاب #48: کتاب: تفسیر قرآن کریم
25: باب وَمِنْ سُورَةِ النُّورِ
باب: سورۃ النور سے بعض آیات کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَخْنَسِ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: كَانَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ مَرْثَدُ بْنُ أَبِي مَرْثَدٍ، وَكَانَ رَجُلًا يَحْمِلُ الْأَسْرَى مِنْ مَكَّةَ حَتَّى يَأْتِيَ بِهِمْ الْمَدِينَةَ، قَالَ: وَكَانَتِ امْرَأَةٌ بَغِيٌّ بِمَكَّةَ يُقَالُ لَهَا عَنَاقٌ وَكَانَتْ صَدِيقَةً لَهُ، وَإِنَّهُ كَانَ وَعَدَ رَجُلًا مِنْ أُسَارَى مَكَّةَ يَحْمِلُهُ، قَالَ: فَجِئْتُ حَتَّى انْتَهَيْتُ إِلَى ظِلِّ حَائِطٍ مِنْ حَوَائِطِ مَكَّةَ فِي لَيْلَةٍ مُقْمِرَةٍ، قَالَ: فَجَاءَتْ عَنَاقٌ فَأَبْصَرَتْ سَوَادَ ظِلِّي بِجَنْبِ الْحَائِطِ، فَلَمَّا انْتَهَتْ إِلَيَّ عَرَفَتْهُ، فَقَالَتْ: مَرْثَدٌ، فَقُلْتُ: مَرْثَدٌ، فَقَالَتْ: مَرْحَبًا وَأَهْلًا هَلُمَّ فَبِتْ عِنْدَنَا اللَّيْلَةَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا عَنَاقُ، حَرَّمَ اللَّهُ الزِّنَا، قَالَتْ: يَا أَهْلَ الْخِيَامِ، هَذَا الرَّجُلُ يَحْمِلُ أَسْرَاكُمْ، قَالَ: فَتَبِعَنِي ثَمَانِيَةٌ وَسَلَكْتُ الْخَنْدَمَةَ، فانتهيت إلى كهف أو غار فدخلت، فجاءوا حتى قاموا على رأسي فبالوا، فطل بولهم على رأسي وأعماهم الله عني، قَالَ: ثُمَّ رَجَعُوا وَرَجَعْتُ إِلَى صَاحِبِي فَحَمَلْتُهُ وَكَانَ رَجُلًا ثَقِيلًا، حَتَّى انْتَهَيْتُ إِلَى الْإِذْخِرِ، فَفَكَكْتُ عَنْهُ كَبْلَهُ، فَجَعَلْتُ أَحْمِلُهُ يُعِيِنُنِي حَتَّى قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنْكِحُ عَنَاقًا مَرَّتَيْنِ فَأَمْسَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ شَيْئًا حَتَّى نَزَلَتْ: الزَّانِي لا يَنْكِحُ إِلا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً وَالزَّانِيَةُ لا يَنْكِحُهَا إِلا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ وَحُرِّمَ ذَلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ سورة النور آية 3، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا مَرْثَدُ " الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً، وَالزَّانِيَةُ لَا يَنْكِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ، فَلَا تَنْكِحْهَا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ مرثد بن مرثد نامی صحابی وہ ایسے ( جی دار و بہادر ) شخص تھے جو ( مسلمان ) قیدیوں کو مکہ سے نکال کر مدینہ لے آیا کرتے تھے ، اور مکہ میں عناق نامی ایک زانیہ ، بدکار عورت تھی ، وہ عورت اس صحابی کی ( ان کے اسلام لانے سے پہلے کی ) دوست تھی ، انہوں نے مکہ کے قیدیوں میں سے ایک قیدی شخص سے وعدہ کر رکھا تھا کہ وہ اسے قید سے نکال کر لے جائیں گے ، کہتے ہیں کہ میں ( اسے قید سے نکال کر مدینہ لے جانے کے لیے ) آ گیا ، میں ایک چاندنی رات میں مکہ کی دیواروں میں سے ایک دیوار کے سایہ میں جا کر کھڑا ہوا ہی تھا کہ عناق آ گئی ۔ دیوار کے اوٹ میں میری سیاہ پرچھائیں اس نے دیکھ لی ، جب میرے قریب پہنچی تو مجھے پہچان کر پوچھا : مرثد ہونا ؟ میں نے کہا : ہاں ، مرثد ہوں ، اس نے خوش آمدید کہا ، ( اور کہا : ) آؤ ، رات ہمارے پاس گزارو ، میں نے کہا : عناق ! اللہ نے زنا کو حرام قرار دیا ہے ، اس نے شور مچا دیا ، اے خیمہ والو ( دوڑو ) یہ شخص تمہارے قیدیوں کو اٹھائے لیے جا رہا ہے ، پھر میرے پیچھے آٹھ آدمی دوڑ پڑے ، میں خندمہ ( نامی پہاڑ ) کی طرف بھاگا اور ایک غار یا کھوہ کے پاس پہنچ کر اس میں گھس کر چھپ گیا ، وہ لوگ بھی اوپر چڑھ آئے اور میرے سر کے قریب ہی کھڑے ہو کر ۔ انہوں نے پیشاب کیا تو ان کے پیشاب کی بوندیں ہمارے سر پر ٹپکیں ، لیکن اللہ نے انہیں اندھا بنا دیا ، وہ ہمیں نہ دیکھ سکے ، وہ لوٹے تو میں بھی لوٹ کر اپنے ساتھی کے پاس ( جسے اٹھا کر مجھے لے جانا تھا ) آ گیا ، وہ بھاری بھر کم آدمی تھے ، میں نے انہیں اٹھا کر ( پیٹھ پر ) لاد لیا ، اذخر ( کی جھاڑیوں میں ) پہنچ کر میں نے ان کی بیڑیاں توڑ ڈالیں اور پھر اٹھا کر چل پڑا ، کبھی کبھی اس نے بھی میری مدد کی ( وہ بھی بیڑیاں لے کر چلتا ) اس طرح میں مدینہ آ گیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ کر میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں عناق سے شادی کر لوں ؟ ( یہ سن کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے مجھے کوئی جواب نہیں دیا ، پھر یہ آیت «الزاني لا ينكح إلا زانية أو مشركة والزانية لا ينكحها إلا زان أو مشرك وحرم ذلك على المؤمنين» ” زانی زانیہ یا مشرکہ ہی سے نکاح کرے اور زانیہ سے زانی یا مشرک ہی نکاح کرے ، مسلمانوں پر یہ نکاح حرام ہے “ ( النور : ۳ ) ، نازل ہوئی آپ نے ( اس آیت کے نزول کے بعد مرثد بن ابی مرثد سے ) فرمایا : ” اس سے نکاح نہ کرو “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن غریب ہے ، اور ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3177]
قال الشيخ الألباني:
حسن الإسناد
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ النکاح 5 (2051)، سنن النسائی/النکاح 12 (3228) (تحفة الأشراف: 8753) (حسن)