جامع الترمذي حدیث نمبر: 3156
Jami at-Tirmidhi 3156
کتاب #48: کتاب: تفسیر قرآن کریم
20: باب وَمِنْ سُورَةِ مَرْيَمَ
باب: سورۃ مریم سے بعض آیات کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ إِسْمَاعِيل أَبُو الْمُغِيرَةِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْحَسْرَةِ سورة مريم آية 39، قَالَ: " يُؤْتَى بِالْمَوْتِ كَأَنَّهُ كَبْشٌ أَمْلَحُ حَتَّى يُوقَفَ عَلَى السُّورِ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، فَيُقَالُ: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ، فَيَشْرَئِبُّونَ، وَيُقَالُ: يَا أَهْلَ النَّارِ، فَيَشْرَئِبُّونَ، فَيُقَالُ: هَلْ تَعْرِفُونَ هَذَا؟ فَيَقُولُونَ: نَعَمْ هَذَا الْمَوْتُ، فَيُضْجَعُ فَيُذْبَحُ فَلَوْلَا أَنَّ اللَّهَ قَضَى لِأَهْلِ الْجَنَّةِ الْحَيَاةَ فِيهَا وَالْبَقَاءَ لَمَاتُوا فَرَحًا، وَلَوْلَا أَنَّ اللَّهَ قَضَى لِأَهْلِ النَّارِ الْحَيَاةَ فِيهَا وَالْبَقَاءَ لَمَاتُوا تَرَحًا "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «وأنذرهم يوم الحسرة» ” اے نبی ! ان کو حسرت و افسوس کے دن سے ڈراؤ “ ( مریم : ۳۹ ) ، پڑھی ( پھر ) فرمایا : ” موت چتکبری بھیڑ کی صورت میں لائی جائے گی اور جنت و جہنم کے درمیان دیوار پر کھڑی کر دی جائے گی ، پھر کہا جائے گا : اے جنتیو ! جنتی گردن اٹھا کر دیکھیں گے ، پھر کہا جائے گا : اے جہنمیو ! جہنمی گردن اٹھا کر دیکھنے لگیں گے ، پوچھا جائے گا : کیا تم اسے پہچانتے ہو ؟ وہ سب کہیں گے : ہاں ، یہ موت ہے ، پھر اسے پہلو کے بل پچھاڑ کر ذبح کر دیا جائے گا ، اگر اہل جنت کے لیے زندگی و بقاء کا فیصلہ نہ ہو چکا ہوتا تو وہ خوشی سے مر جاتے ، اور اگر اہل جہنم کے لیے جہنم کی زندگی اور جہنم میں ہمیشگی کا فیصلہ نہ ہو چکا ہوتا تو وہ غم سے مر جاتے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3156]
قال الشيخ الألباني:
صحيح دون قوله: " فلولا أن الله قضى ... " انظر الحديث (2696، 2683) // (465 - 2696) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(3156) إسناده ضعيف ¤ النضر بن إسماعيل: ليس بالقوي (تق:7130) وأخرجه البخاري فى صحيحه (4730) من حديث الأعمش بغير ھذا اللفظ وحديثه ھو الصحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/تفسیر مریم 1 (4730)، صحیح مسلم/الجنة 13 (2849) (تحفة الأشراف: 4002) (صحیح)