جامع الترمذي حدیث نمبر: 3129
Jami at-Tirmidhi 3129
کتاب #48: کتاب: تفسیر قرآن کریم
17: باب وَمِنْ سُورَةِ النَّحْلِ
باب: سورۃ النحل سے بعض آیات کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عِيسَى بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ أُصِيبَ مِنَ الْأَنْصَارِ أَرْبَعَةٌ وَسِتُّونَ رَجُلًا، وَمِنَ الْمُهَاجِرِينَ سِتَّةٌ فِيهِمْ حَمْزَةُ فَمَثَّلُوا بِهِمْ، فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ: لَئِنْ أَصَبْنَا مِنْهُمْ يَوْمًا مِثْلَ هَذَا لَنُرْبِيَنَّ عَلَيْهِمْ، قَالَ: فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُمْ بِهِ وَلَئِنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِلصَّابِرينَ سورة النحل آية 126، فَقَالَ رَجُلٌ: لَا قُرَيْشَ بَعْدَ الْيَوْمِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُفُّوا عَنِ الْقَوْمِ إِلَّا أَرْبَعَةً "، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ.
ابی بن کعب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب احد کی جنگ ہوئی تو انصار کے چونسٹھ ( ۶۴ ) اور مہاجرین کے چھ کام آئے ۔ ان میں حمزہ رضی الله عنہ بھی تھے ۔ کفار نے ان کا مثلہ کر دیا تھا ، انصار نے کہا : اگر کسی دن ہمیں ان پر غلبہ حاصل ہوا تو ہم ان کے مقتولین کا مثلہ اس سے کہیں زیادہ کر دیں گے ۔ پھر جب مکہ کے فتح کا وقت آیا تو اللہ تعالیٰ نے آیت «وإن عاقبتم فعاقبوا بمثل ما عوقبتم به ولئن صبرتم لهو خير للصابرين» ۱؎ نازل فرما دی ۔ ایک صحابی نے کہا : «لا قريش بعد اليوم» ( آج کے بعد کوئی قریشی وریشی نہ دیکھا جائے گا ) ۲؎ آپ نے فرمایا : ” ( نہیں ) چار اشخاص کے سوا کسی کو قتل نہ کرو “ ۳؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث ابی بن کعب کی روایت سے حسن غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3129]
💡 وضاحت:
۱؎: ”اگر تم ان سے بدلہ لو (انہیں سزا دو) تو انہیں اتنی ہی سزا دو جتنی انہوں نے تمہیں سزا (اور تکلیف) دی ہے اور اگر تم صبر کر لو (انہیں سزا نہ دو) تو یہ صبر کرنے والوں کے حق میں بہتر ہے“ (النحل: ۱۲۶)۔
۲؎: یعنی مسلم قریشی کسی کافر قریشی کا خیال نہ کرے گا کیونکہ قتل عام ہو گا۔
۳؎: ان چاروں کے نام دوسری حدیث میں آئے ہیں اور وہ یہ ہیں: (۱) عکرمہ بن ابی جہل (۲) عبداللہ بن خطل (۳) مقیس بن صبابہ (۴) عبداللہ بن سعد بن ابی سرح، ان کے بارے میں ایک حدیث میں آیا ہے کہ یہ خانہ کعبہ کے پردوں سے چمٹے ہوئے ملیں تب بھی انہیں قتل کر دو۔
۲؎: یعنی مسلم قریشی کسی کافر قریشی کا خیال نہ کرے گا کیونکہ قتل عام ہو گا۔
۳؎: ان چاروں کے نام دوسری حدیث میں آئے ہیں اور وہ یہ ہیں: (۱) عکرمہ بن ابی جہل (۲) عبداللہ بن خطل (۳) مقیس بن صبابہ (۴) عبداللہ بن سعد بن ابی سرح، ان کے بارے میں ایک حدیث میں آیا ہے کہ یہ خانہ کعبہ کے پردوں سے چمٹے ہوئے ملیں تب بھی انہیں قتل کر دو۔
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح الإسناد
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) (تحفة الأشراف: 13) (حسن صحیح الإسناد)