جامع الترمذي حدیث نمبر: 2921
Jami at-Tirmidhi 2921
کتاب #46: کتاب: قرآن کریم کے مناقب و فضائل
22: باب مِنْهُ
باب:۔۔۔
حَدَّثَنَا عَليُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بِلَالٍ، عَنْ عِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ يَقْرَأُ الْمُسَبِّحَاتِ قَبْلَ أَنْ يَرْقُدَ، وَيَقُولُ: إِنَّ فِيهِنَّ آيَةً خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ آيَةٍ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
عرباض بن ساریہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سونے سے پہلے مسبحات پڑھتے تھے ۱؎ آپ فرماتے تھے : ” ان میں ایک آیت ایسی ہے جو ہزار آیتوں سے بہتر ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2921]
💡 وضاحت:
۱؎: مسبحات وہ سورتیں ہیں جو سبحان اللہ، سبح اور یسبح سے شروع ہوتی ہیں، وہ یہ ہیں: بنی اسرائیل، الحدید، الحشر، الجمعہ، الصف، التغابن، اور الاعلیٰ۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الأدب 107 (5057) (تحفة الأشراف: 9888) (ضعیف) (سند میں بقیة بن الولید مدلس راوی ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے، نیز عبد اللہ بن أبی بلال الخزاعی الشامی مقبول عندالمتابعہ ہیں، اور ان کا کوئی متابع نہیں اس لیے ضعیف ہیں)