جامع الترمذي حدیث نمبر: 2905
Jami at-Tirmidhi 2905
کتاب #46: کتاب: قرآن کریم کے مناقب و فضائل
13: باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ قَارِئِ الْقُرْآنِ
باب: قرآن کے قاری کی فضیلت کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا حَفْصُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَاذَانَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ وَاسْتَظْهَرَهُ فَأَحَلَّ حَلَالَهُ وَحَرَّمَ حَرَامَهُ أَدْخَلَهُ اللَّهُ بِهِ الْجَنَّةَ، وَشَفَّعَهُ فِي عَشْرَةٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ كُلُّهُمْ قَدْ وَجَبَتْ لَهُ النَّارُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِصَحِيحٍ وَحَفْصُ بْنُ سُلَيْمَانَ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ.
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے قرآن پڑھا اور اسے پوری طرح حفظ کر لیا ، جس چیز کو قرآن نے حلال ٹھہرایا اسے حلال جانا اور جس چیز کو قرآن نے حرام ٹھہرایا اسے حرام سمجھا تو اللہ اسے اس قرآن کے ذریعہ جنت میں داخل فرمائے گا ۔ اور اس کے خاندان کے دس ایسے لوگوں کے بارے میں اس ( قرآن ) کی سفارش قبول کرے گا جن پر جہنم واجب ہو چکی ہو گی “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث غریب ہے ، اسے ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں ، ¤ ۲- اس کی سند صحیح نہیں ہے ، ¤ ۳- حفص بن سلیمان حدیث میں ضعیف قرار دیئے گئے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2905]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف جدا، ابن ماجة (216) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (38)، المشكاة (2141)، ضعيف الجامع الصغير (5761) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(2905) إسناده ضعيف جدًا / جه 216 ¤ حفص بن سليمان: متروك الحديث مع إمامته فى القراءة وشيخه كثير بن زاذان مجهول (تق: 1405،5609) وقال الهيثمى فى حفص بن سليمان: وضعفه الجمهور (مجمع الزوائد 163/10)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/المقدمة 16 (216) (تحفة الأشراف: 10146) (ضعیف جداً) (سند میں حفص بن سلیمان ابو عمر قاری کوفی صاحب عاصم ابن ابی النجود قراءت میں امام ہیں، اور حدیث میں متروک)