جامع الترمذي حدیث نمبر: 29
Jami at-Tirmidhi 29
کتاب #1: کتاب: طہارت کے احکام و مسائل
23: بَابُ مَا جَاءَ فِي تَخْلِيلِ اللِّحْيَةِ
باب: داڑھی کے خلال کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ أَبِي الْمُخَارِقِ أَبِي أُمَيَّةَ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ بِلَالٍ، قَالَ: رَأَيْتُ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ تَوَضَّأَ، فَخَلَّلَ لِحْيَتَهُ، فَقِيلَ لَهُ: أَوْ قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: أَتُخَلِّلُ لِحْيَتَكَ , قَالَ: وَمَا يَمْنَعُنِي وَلَقَدْ " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَلِّلُ لِحْيَتَهُ ".
حسان بن بلال کہتے ہیں کہ میں نے عمار بن یاسر رضی الله عنہما کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کیا تو اپنی داڑھی میں خلال کیا ۱؎ ان سے کہا گیا یا راوی حدیث حسان نے کہا کہ میں نے ان سے کہا : کیا آپ اپنی داڑھی کا خلال کر رہے ہیں ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ میں داڑھی کا خلال کیوں نہ کروں جب کہ میں نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو داڑھی کا خلال کرتے دیکھا ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 29]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ داڑھی کا خلال مسنون ہے، بعض لوگ وجوب کے قائل ہیں، لیکن تمام دلائل کا جائزہ لینے سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ سنت ہے واجب نہیں، جمہور کا یہی قول ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (429)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ عبد الكريم بن أبي المخارق ضعيف (تقديم: 12) والحديث الآتي (الأصل: 31) يغني عنه
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الطہارة 50 (429) (تحفة الأشراف: 10346) (صحیح)