📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي

Jami at-Tirmidhi (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
📁 کتاب: قرآن کریم کے مناقب و فضائل (كتاب فضائل القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم) 🏷️ باب: باب: سورۃ یاسین کی فضیلت کا بیان۔
عربی:
اردو:
جامع الترمذي حدیث نمبر: 2887 Jami at-Tirmidhi 2887
کتاب #46: کتاب: قرآن کریم کے مناقب و فضائل
7: باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ يس
باب: سورۃ یاسین کی فضیلت کا بیان۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَسُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرُّؤَاسِيُّ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ هَارُونَ أَبِي مُحَمَّدٍ، عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " " إِنَّ لِكُلِّ شَيْءٍ قَلْبًا وَقَلْبُ الْقُرْآنِ يس، وَمَنْ قَرَأَ يس كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِقِرَاءَتِهَا قِرَاءَةَ الْقُرْآنِ عَشْرَ مَرَّاتٍ " "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَبِالْبَصْرَةِ لَا يَعْرِفُونَ مِنْ حَدِيثِ قَتَادَةَ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَهَارُونُ أَبُو مُحَمَّدٍ شَيْخٌ مَجْهُولٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بِهَذَا، وَفِي الْبَابِ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، وَلَا يَصِحُّ حَدِيثُ أَبِي بَكْرٍ مِنْ قِبَلِ إِسْنَادِهِ، وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ، وَفِي الْبَابِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر چیز کا ایک دل ہوتا ہے ، اور قرآن کا دل سورۃ یاسین ہے ۔ اور جس نے سورۃ یاسین پڑھی تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس کے پڑھنے کے صلے میں دس مرتبہ قرآن شریف پڑھنے کا ثواب لکھے گا “ ۔ اس سند سے بھی یہ سابقہ حدیث کی طرح مروی ہے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ¤ ۲- اس حدیث کو ہم صرف حمید بن عبدالرحمٰن کی روایت سے جانتے ہیں ۔ اور اہل بصرہ قتادہ کی روایت کو صرف اسی سند سے جانتے ہیں ۔ اور ہارون ابو محمد شیخ مجہول ہیں ۔ ¤ ۳- اس باب میں ابوبکر صدیق سے بھی روایت ہے ، اور یہ روایت سند کے اعتبار سے صحیح نہیں ہے ۔ ¤ ۴- اس کی سند ضعیف ہے اور اس باب میں ابوہریرہ سے بھی روایت ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2887]
قال الشيخ الألباني: موضوع، الضعيفة (169)، // ضعيف الجامع الصغير (1935) //
قال الشيخ زبیر علی زئی: (2887) إسناده ضعيف ¤ هارون: مجهول (تق:7249)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 1350) (موضوع) (سند میں ہارون العبدی اور مقاتل بن سلیمان کذاب ہیں، یہاں مقاتل بن سلیمان ہی صحیح ہے، مقاتل بن حیان سہو ہے، دیکھیے: الضعیفة رقم: 169)
جامع الترمذي • حدیث #2887
2886 2886 2887 2888 2889
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ