جامع الترمذي حدیث نمبر: 2851
Jami at-Tirmidhi 2851
کتاب #44: کتاب: اسلامی اخلاق و آداب
71: باب مَا جَاءَ لأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ أَحَدِكُمْ قَيْحًا خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا
باب: پیٹ کا مواد سے بھرا ہونا (گندے) اشعار سے بھرے ہونے سے بہتر ہے۔
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ عِيسَى الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا عَمِّي يَحْيَى بْنُ عِيسَى الرَّمْلِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ أَحَدِكُمْ قَيْحًا يَرِيَهُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا "، وَفِي الْبَابِ، عَنْ سَعْدٍ، وَابْنِ عُمَرَ، وَأَبِي الدَّرْدَاءِ، وَأَبِي سَعِيدٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کسی شخص کے پیٹ کا خون آلود مواد سے بھر جانا جسے وہ گلا ، سڑا دے ، یہ کہیں بہتر ہے اس سے کہ اس کے پیٹ ( و سینے ) میں ( کفریہ شرکیہ اور گندے ) اشعار بھرے ہوئے ہوں “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں سعد ، ابن عمر ، اور ابو الدرداء رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2851]
💡 وضاحت:
۱؎: پچھلے باب کی احادیث اور اس باب کی احادیث میں تطبیق یہ ہے کہ اشعار اگر توحید وسنت، اخلاق حمیدہ، وعظ و نصیحت، پند و نصائح اور حکمت و دانائی پر مشتمل ہوں تو ان کا کہنا، پڑھنا سب جائز ہے، اور اگر کفریہ، شرکیہ، بدعت اور خلاف شرع باتوں پر مشتمل ہوں یا بازاری اور گندے اشعار ہوں تو ان کو اپنے دل وماغ میں داخل کرنا (یا ذکر کرنا) پیپ اور مواد سے زیادہ مکروہ اور نقصان دہ ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح مختصر الشمائل (211)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأدب 92 (6155)، صحیح مسلم/الشعر 7 (2257)، سنن ابن ماجہ/الأدب 42 (3759) (تحفة الأشراف: 12478)، و مسند احمد (2/288، 331، 391) (صحیح)