جامع الترمذي حدیث نمبر: 2848
Jami at-Tirmidhi 2848
کتاب #44: کتاب: اسلامی اخلاق و آداب
70: باب مَا جَاءَ فِي إِنْشَادِ الشِّعْرِ
باب: شعر پڑھنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَ: قِيلَ لَهَا: هَلْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَمَثَّلُ بِشَيْءٍ مِنَ الشِّعْرِ؟ قَالَتْ: " كَانَ يَتَمَثَّلُ بِشِعْرِ ابْنِ رَوَاحَةَ وَيَتَمَثَّلُ وَيَقُولُ: وَيَأْتِيكَ بِالْأَخْبَارِ مَنْ لَمْ تُزَوِّدِوَفِي الْبَابِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ان سے پوچھا گیا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کوئی شعر بطور مثال اور نمونہ پیش کرتے تھے ؟ تو انہوں نے کہا : ہاں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابن رواحہ کا شعر بطور مثال پیش کرتے تھے ، آپ کہتے تھے : «ويأتيك بالأخبار من لم تزود» ۱؎ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2848]
💡 وضاحت:
۱؎: پورا شعر اس طرح ہے: «ستبدى لك الأيام ماكنت جاهلا ويأتيك بالأخبار من لم تزود» ”زمانہ تمہارے سامنے وہ چیزیں ظاہر اور پیش کرے گا جن سے تم ناواقف اور بیخبر ہو گے، اور تمہارے پاس وہ آدمی خبریں اور اطلاعات لے کر آئے گا جس کو تم نے خرچہ دے کر اس کام کے لیے بھیجا بھی نہ ہو گا“۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الصحيحة (2057)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(2848) إسناده ضعيف ¤ شريك بن عبدالله القاضي مدلس (تقدم: 112) وعنعن وللحديث شواهد ضعيفة
تخریج دارالدعوہ:
سنن النسائی/عمل الیوم واللیلة 287 (997) (تحفة الأشراف: 16148) (صحیح)