جامع الترمذي حدیث نمبر: 2836
Jami at-Tirmidhi 2836
کتاب #44: کتاب: اسلامی اخلاق و آداب
65: باب مَا يُكْرَهُ مِنَ الأَسْمَاءِ
باب: ناپسندیدہ ناموں کا بیان۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ عُمَيْلَةَ الْفَزَارِيِّ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تُسَمِّ غُلَامَكَ رَبَاحٌ وَلَا أَفْلَحُ وَلَا يَسَارٌ وَلَا نَجِيحٌ "، يُقَالُ: أَثَمَّ هُوَ؟ فَيُقَالُ: " لَا "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اپنے غلام کا نام رباح ، افلح ، یسار اور نجیح نہ رکھو ( کیونکہ ) پوچھا جائے کہ کیا وہ یہاں ہے ؟ تو کہا جائے گا : نہیں “ ۱؎ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2836]
💡 وضاحت:
۱؎: «رباح» فائدہ دینے والا «افلح» فلاح والا «یسار» آسانی «نجیح» کامیاب رہنے والا، ان ناموں کے رکھنے سے اس لیے منع کیا گیا کیونکہ اگر کسی سے پوچھا جائے: کیا «افلح» یہاں ہے اور جواب میں کہا جائے کہ نہیں تو لوگ اسے بدفالی سمجھ کر اچھا نہ سمجھیں گے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (3630)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الآداب 2 (2137)، سنن ابی داود/ الأدب 70 (4958، 4959)، سنن ابن ماجہ/الأدب 31 (3730) (تحفة الأشراف: 4612)، وسنن الدارمی/الاستئذان 61 (2738) (صحیح)