جامع الترمذي حدیث نمبر: 2795
Jami at-Tirmidhi 2795
کتاب #44: کتاب: اسلامی اخلاق و آداب
40: باب مَا جَاءَ أَنَّ الْفَخِذَ عَوْرَةٌ
باب: ران کے ستر (شرمگاہ) میں داخل ہونے کا بیان۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ زُرْعَةَ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ جَرْهَدٍ الْأَسْلَمِيِّ، عَنْ جَدِّهِ جَرْهَدٍ، قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَرْهَدٍ فِي الْمَسْجِدِ وَقَدِ انْكَشَفَ فَخِذُهُ، فَقَال: " إِنَّ الْفَخِذَ عَوْرَةٌ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ مَا أَرَى إِسْنَادَهُ بِمُتَّصِلٍ.
جرہد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں جرہد کے پاس ( یعنی میرے پاس سے ) سے گزرے ( اس وقت ) ان کی ران کھلی ہوئی تھی تو آپ نے فرمایا : ” ران بھی ستر ( چھپانے کی چیز ) ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن ہے ، ¤ ۲- میرے نزدیک اس کی سند متصل نہیں ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2795]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الإرواء (1 / 297 - 298)، المشكاة (3114)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الصلاة 12 (تعلیقاً في الترجمة)، سنن ابی داود/ الحمام 2 (401) (تحفة الأشراف: 3206)، و مسند احمد (3/478) (ویأتي بعد حدیث) (صحیح)