جامع الترمذي حدیث نمبر: 2789
Jami at-Tirmidhi 2789
کتاب #44: کتاب: اسلامی اخلاق و آداب
37: باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ رَدِّ الطِّيبِ
باب: خوشبو واپس کر دینا ناپسندیدہ اور مکروہ کام ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كَانَ أَنَسٌ لَا يَرُدُّ الطِّيبَ، وَقَالَ أَنَسٌ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ لَا يَرُدُّ الطِّيبَ " وَفِي الْبَابِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ثمامہ بن عبداللہ کہتے ہیں کہ انس رضی الله عنہ خوشبو ( کی چیز ) واپس نہیں کرتے تھے ، اور انس رضی الله عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خوشبو کو واپس نہ کرتے تھے ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2789]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہدیہ اگر خوشبو جیسی چیز آتی تو آپ اسے بھی واپس نہیں کرتے تھے، اس لیے سنت نبوی پر عمل کرتے ہوئے ہدیہ کی ہوئی خوشبو کو واپس نہیں کرنا چاہیئے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح مختصر الشمائل (186)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الہبة 9 (2582)، واللباس 80 (5929)، سنن النسائی/الزینة 74 (5260) (تحفة الأشراف: 7453) (صحیح)