جامع الترمذي حدیث نمبر: 2750
Jami at-Tirmidhi 2750
کتاب #44: کتاب: اسلامی اخلاق و آداب
9: باب كَرَاهِيَةِ أَنْ يُقَامَ الرَّجُلُ مِنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ يُجْلَسُ فِيهِ
باب: کسی کو اٹھا کر اس کی جگہ بیٹھ جانا مکروہ ہے۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلالُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يُقِمْ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ مِنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ يَجْلِسُ فِيهِ "، قَالَ: وَكَانَ الرَّجُلُ يَقُومُ لِابْنِ عُمَرَ فَلَا يَجْلِسُ فِيهِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کو اس کی جگہ سے اٹھا کر خود اس جگہ نہ بیٹھ جائے “ ۔ راوی سالم کہتے ہیں : ابن عمر رضی الله عنہما کے احترام میں آدمی ان کے آنے پر اپنی جگہ سے اٹھ کر کھڑا ہو جاتا تھا لیکن وہ ( اس ممانعت کی وجہ سے ) اس کی جگہ نہیں بیٹھتے تھے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث صحیح ہے ۔ اور پھر واپس آئے تو وہ اپنی جگہ پر بیٹھنے کا زیادہ مستحق ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2750]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر ماقبلہ (تحفة الأشراف: 6944) (صحیح)