جامع الترمذي حدیث نمبر: 2744
Jami at-Tirmidhi 2744
کتاب #44: کتاب: اسلامی اخلاق و آداب
5: باب مَا جَاءَ كَمْ يُشَمَّتُ الْعَاطِسُ
باب: چھینکنے والے کا جواب کتنی بار دیا جائے؟
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ دِينَارٍ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ السَّلُولِيُّ الْكُوفِيُّ، عَنْ عَبْدِ السَّلَامِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبِي خَالِدٍ الدَّالانِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ إِسْحَاق بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أَبِيهَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُشَمَّتُ الْعَاطِسُ ثَلَاثًا، فَإِنْ زَادَ فَإِنْ شِئْتَ فَشَمِّتْهُ وَإِنْ شِئْتَ فَلَا "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَإِسْنَادُهُ مَجْهُولٌ.
عبید بن رفاعہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” چھینکنے والے کی چھینک کا جواب تین بار دیا جائے گا ، اور اگر تین بار سے زیادہ چھینکیں آئیں تو تمہیں اختیار ہے جی چاہے تو جواب دو اور جی چاہے تو نہ دو “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث غریب ہے اور اس کی سند مجہول ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2744]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، الضعيفة (4830) // ضعيف الجامع الصغير (3407)، ضعيف أبي داود (1068 / 5036) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(2744) إسناده ضعيف / د 5036
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الأدب 100 (5036) (تحفة الأشراف: 9746) (ضعیف) (سند میں ”یزید بن عبد الرحمن ابو خالدالدالانی“ بہت غلطیاں کر جاتے تھے، اور ”عمر بن اسحاق بن ابی طلحہ“ اور ان کی ماں ”حمیدہ یا عبیدہ“ دونوں مجہول ہیں)