جامع الترمذي حدیث نمبر: 2718
Jami at-Tirmidhi 2718
کتاب #43: کتاب: سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام
25: باب مَا جَاءَ فِي خَتْمِ الْكِتَابِ
باب: خط (مکتوب) پر مہر لگانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: لَمَّا أَرَادَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَكْتُبَ إِلَى الْعَجَمِ قِيلَ لَهُ: " إِنَّ الْعَجَمَ لَا يَقْبَلُونَ إِلَّا كِتَابًا عَلَيْهِ خَاتَمٌ فَاصْطَنَعَ خَاتَمًا، قَالَ: فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِهِ فِي كَفِّهِ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب عجمی ( بادشاہوں ) کو خطوط بھیجنے کا ارادہ فرمایا تو آپ کو بتایا گیا کہ عجمی بغیر مہر لگا ہوا خط قبول نہیں کرتے چنانچہ آپ نے ( مہر کے لیے ) ایک انگوٹھی بنوائی ، تو ان میں آپ کی ہتھیلی میں اس کی چمک کو اس وقت دیکھ رہا ہوں ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2718]
قال الشيخ الألباني:
صحيح مختصر الشمائل (74)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/العلم 7 (65)، والجھاد 101 (2938)، واللباس 50 (5872)، 52 (5875)، والأحکام 15 (7162)، صحیح مسلم/اللباس 13 (2092/56)، سنن ابی داود/ الخاتم 1 (4214)، سنن النسائی/الزینة 47 (5204) (تحفة الأشراف: 1368)، و مسند احمد (3/168-169، 170، 181، 223، 275) (صحیح)