جامع الترمذي حدیث نمبر: 2691
Jami at-Tirmidhi 2691
کتاب #43: کتاب: سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام
3: باب مَا جَاءَ فِي الاِسْتِئْذَانِ ثَلاَثَةً
باب: کسی کے گھر داخل ہونے کے لیے تین بار اجازت حاصل کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي أَبُو زُمَيْلٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، قَالَ: " اسْتَأْذَنْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا فَأَذِنَ لِي " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَأَبُو زُمَيْلٍ اسْمُهُ: سِمَاكٌ الْحَنَفِيُّ، وَإِنَّمَا أَنْكَرَ عُمَرُ , عِنْدَنَا , عَلَى أَبِي مُوسَى حَيْثُ رَوَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " الِاسْتِئْذَانُ ثَلَاثٌ، فَإِذَا أُذِنَ لَكَ وَإِلَّا فَارْجِعْ " وَقَدْ كَانَ عُمَرُ اسْتَأْذَنَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا فَأَذِنَ لَهُ، وَلَمْ يَكُنْ عَلِمَ هَذَا الَّذِي رَوَاهُ أَبُو مُوسَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " فَإِنْ أُذِنَ لَكَ وَإِلَّا فَارْجِعْ ".
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کے پاس آنے کی تین بار اجازت مانگی ، تو آپ نے مجھے اجازت دے دی ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ¤ ۲- ابوزمیل کا نام سماک الحنفی ہے ، ¤ ۳- میرے نزدیک عمر کو ابوموسیٰ کی اس بات پر اعتراض اور انکار اس وجہ سے تھا کہ ابوموسیٰ نے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اجازت تین بار طلب کی جائے ، اگر اجازت مل جائے تو ٹھیک ور نہ لوٹ جاؤ “ ۔ ( رہ گیا عمر رضی الله عنہ کا اپنا معاملہ ) تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے تین بار اجازت طلب کی تھی تو انہیں اجازت مل گئی تھی ، اس حدیث کی خبر انہیں نہیں تھی جسے ابوموسیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے ، آپ نے فرمایا : ” پھر اگر اندر جانے کی اجازت مل جائے تو ٹھیک ورنہ واپس لوٹ جاؤ “ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2691]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف الإسناد، منكر المتن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 10499) (ضعیف الإسناد منکر المتن) (اس کے راوی ”عکرمہ بن عمار“ روایت میں غلطی کر جاتے تھے، اور فی الحقیقت یہ روایت پچھلی صحیح روایت کے برخلاف ہے)