📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي

Jami at-Tirmidhi (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
📁 کتاب: علم اور فہم دین (كتاب العلم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم) 🏷️ باب: باب: عبادت پر علم و فقہ کی فضیلت کا بیان۔
عربی:
اردو:
جامع الترمذي حدیث نمبر: 2682 Jami at-Tirmidhi 2682
کتاب #42: کتاب: علم اور فہم دین
19: باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْفِقْهِ عَلَى الْعِبَادَةِ
باب: عبادت پر علم و فقہ کی فضیلت کا بیان۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خِدَاشٍ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ كَثِيرٍ، قَالَ: قَدِمَ رَجُلٌ مِنْ الْمَدِينَةِ عَلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ وَهُوَ بِدِمَشْقَ , فَقَالَ: مَا أَقْدَمَكَ يَا أَخِي؟ فَقَالَ: حَدِيثٌ بَلَغَنِي أَنَّكَ تُحَدِّثُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَمَا جِئْتَ لِحَاجَةٍ؟، قَالَ: لَا، قَالَ: أَمَا قَدِمْتَ لِتِجَارَةٍ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: مَا جِئْتُ إِلَّا فِي طَلَبِ هَذَا الْحَدِيثِ؟ قَالَ: فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَبْتَغِي فِيهِ عِلْمًا سَلَكَ اللَّهُ بِهِ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ، وَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَتَضَعُ أَجْنِحَتَهَا رِضَاءً لِطَالِبِ الْعِلْمِ، وَإِنَّ الْعَالِمَ لَيَسْتَغْفِرُ لَهُ مَنْ فِي السَّمَوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ حَتَّى الْحِيتَانُ فِي الْمَاءِ، وَفَضْلُ الْعَالِمِ عَلَى الْعَابِدِ كَفَضْلِ الْقَمَرِ عَلَى سَائِرِ الْكَوَاكِبِ، إِنَّ الْعُلَمَاءَ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ، إِنَّ الْأَنْبِيَاءَ لَمْ يُوَرِّثُوا دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا إِنَّمَا وَرَّثُوا الْعِلْمَ فَمَنْ أَخَذَ بِهِ أَخَذَ بِحَظٍّ وَافِرٍ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: وَلَا نَعْرِفُ هَذَا الْحَدِيثَ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَاصِمِ بْنِ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، وَلَيْسَ هُوَ عِنْدِي بِمُتَّصِلٍ هَكَذَا , حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خِدَاشٍ هَذَا الْحَدِيثَ، وَإِنَّمَا يُرْوَى هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عَاصِمِ بْنِ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ جَمِيلٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ مَحْمُودِ بْنِ خِدَاشٍ , وَرَأْيُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيل هَذَا أَصَحُّ.
قیس بن کثیر کہتے ہیں کہ ایک شخص مدینہ سے ابو الدرداء رضی الله عنہ کے پاس دمشق آیا ، ابوالدرداء رضی الله عنہ نے اس سے کہا : میرے بھائی ! تمہیں یہاں کیا چیز لے کر آئی ہے ، اس نے کہا : مجھے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث بیان کرتے ہیں ، ابو الدرداء نے کہا : کیا تم کسی اور ضرورت سے تو نہیں آئے ہو ؟ اس نے کہا : نہیں ، انہوں نے کہا : کیا تم تجارت کی غرض سے تو نہیں آئے ہو ؟ اس نے کہا : نہیں ۔ میں تو صرف اس حدیث کی طلب و تلاش میں آیا ہوں ، ابو الدرداء نے کہا : ( اچھا تو سنو ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” جو شخص علم دین کی تلاش میں کسی راستہ پر چلے ، تو اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ اسے جنت کے راستہ پر لگا دیتا ہے ۔ بیشک فرشتے طالب ( علم ) کی خوشی کے لیے اپنے پر بچھا دیتے ہیں ، اور عالم کے لیے آسمان و زمین کی ساری مخلوقات مغفرت طلب کرتی ہیں ۔ یہاں تک کہ پانی کے اندر کی مچھلیاں بھی ، اور عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہی ہے جیسے چاند کی فضیلت سارے ستاروں پر ، بیشک علماء انبیاء کے وارث ہیں اور انبیاء نے کسی کو دینار و درہم کا وارث نہیں بنایا ، بلکہ انہوں نے علم کا وارث بنایا ہے ۔ اس لیے جس نے اس علم کو حاصل کر لیا ، اس نے ( علم نبوی اور وراثت نبوی سے ) پورا پورا حصہ لیا “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- ہم عاصم بن رجاء بن حیوہ کی روایت کے سوا کسی اور طریقہ سے اس حدیث کو نہیں جانتے ، اور اس حدیث کی سند میرے نزدیک متصل نہیں ہے ۔ اسی طرح انہیں اسناد سے محمود بن خداش نے بھی ہم سے بیان کی ہے ، ¤ ۲- یہ حدیث عاصم بن رجاء بن حیوہ نے بسند «داود بن جميل عن كثير بن قيس عن أبي الدرداء عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے ۔ اور یہ حدیث محمود بن خداش کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے ، اور محمد بن اسماعیل بخاری کی رائے ہے کہ یہ زیادہ صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2682]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ علماء و محدثین بہت بڑی فضیلت کے حامل ہیں، حصول علم کے لیے دور دراز کا سفر درکار ہے، یہ سفر خالص علم دین کی نیت سے ہو کوئی دنیوی غرض اس کے ساتھ شامل نہ ہو، علم دین حاصل کرنے والے کے لیے جنت کا راستہ آسان ہو جاتا ہے، کائنات کی ساری مخلوق اس کے لیے مغفرت طلب کرتی ہیں، علماء انبیاء کے حقیقی وارث ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (223)
قال الشيخ زبیر علی زئی: (2682) إسناده ضعيف / د 3641، جه 223 ¤ قيس بن كثير هو كثير بن قيس وهو ضعيف (تق: 5624) وللحديث شواهد ضعيفة
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/ العلم 1 (3641)، سنن ابن ماجہ/المقدمة 17 (223) (تحفة الأشراف: 10958)، وسنن الدارمی/المقدمة 32 (354) (صحیح) (سند میں کثیر بن قیس، یا قیس بن کثیر ضعیف راوی ہیں، لیکن متابعات سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، تفصیل کے لیے دیکھیے: زہد وکیع رقم 519)
جامع الترمذي • حدیث #2682
2680 2681 2682 2683 2684

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#2681 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ ب...
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک فقیہ ( عال...
#2683 حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنِ ابْنِ أَشْوَعَ،...
یزید بن سلمہ جعفی کہتے ہیں کہ میں نے کہا : اللہ کے رسول ! میں نے بہت سی حدیثیں آپ سے سنی ہیں ، میں ڈ...
#2684 حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ أَيُّوبَ الْعَامِرِيُّ، عَنْ عَوْفٍ، عَنِ ابْنِ سِ...
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” منافق میں دو خصلتیں ( ص...
#2685 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ رَجَاءٍ، حَدَّ...
ابوامامہ باہلی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو آدمیوں کا ذکر کیا گیا ، ان میں ...
#2686 حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ الشَّيْبَانِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، ع...
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مومن بھلائی سے ...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ