جامع الترمذي حدیث نمبر: 2646
Jami at-Tirmidhi 2646
کتاب #42: کتاب: علم اور فہم دین
2: باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ طَلَبِ الْعِلْمِ
باب: علم حاصل کرنے کی فضیلت کا بیان۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ فِيهِ عِلْمًا سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو علم حاصل کرنے کے ارادہ سے کہیں جائے ، تو اللہ اس کے لیے جنت کے راستے کو آسان ( و ہموار ) کر دیتا ہے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2646]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے علم کی فضیلت ثابت ہوتی ہے، معلوم ہوا کہ علم کے حصول کے لیے سفر کرنا مستحب ہے، موسیٰ علیہ السلام نے خضر علیہ السلام کے ساتھ علم حاصل کرنے کے لیے سفر کیا، اور عبداللہ بن قیس رضی الله عنہ سے ایک حدیث کے علم کے لیے جابر بن عبداللہ رضی الله عنہ نے ایک مہینہ کا سفر طے کیا، علماء سلف حدیث کی طلب میں دور دراز کا سفر کرتے تھے، اگر خلوص نیت کے ساتھ علم شرعی کے حصول کی کوشش کی جائے تو اللہ رب العالمین جنت کا راستہ آسان کر دیتا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (225)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الذکر والدعاء 18 (2699)، سنن ابی داود/ العلم 1 (3643)، سنن ابن ماجہ/المقدمة 17 (225)، ویأتي في القراءت 12 (2945) (تحفة الأشراف: 12486)، و مسند احمد (2/252، 325، 407)، وسنن الدارمی/المقدمة 32 (356) (صحیح)