جامع الترمذي حدیث نمبر: 2558
Jami at-Tirmidhi 2558
کتاب #39: کتاب: جنت کا وصف اور اس کی نعمتوں کا تذکرہ
20: باب مَا جَاءَ فِي خُلُودِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَهْلِ النَّارِ
باب: جنتی ہمیشہ جنت میں رہیں گے اور جہنمی ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ مَرْزُوقٍ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ يَرْفَعُهُ، قَالَ: " إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ أُتِيَ بِالْمَوْتِ كَالْكَبْشِ الْأَمْلَحِ فَيُوقَفُ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ فَيُذْبَحُ وَهُمْ يَنْظُرُونَ، فَلَوْ أَنَّ أَحَدًا مَاتَ فَرَحًا لَمَاتَ أَهْلُ الْجَنَّةِ، وَلَوْ أَنَّ أَحَدًا مَاتَ حَزَنًا لَمَاتَ أَهْلُ النَّارِ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے فرمایا : ” قیامت کے دن موت کو چتکبرے مینڈھے کی طرح لایا جائے گا اور جنت و جہنم کے درمیان کھڑی کی جائے گی پھر وہ ذبح کی جائے گی ، اور جنتی و جہنمی دیکھ رہے ہوں گے ، سو اگر کوئی خوشی سے مرنے والا ہوتا تو جنتی مر جاتے اور اگر کوئی غم سے مرنے والا ہوتا تو جہنمی مر جاتے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2558]
قال الشيخ الألباني:
صحيح - دون قوله: " فلو أن أحدا ... " - الضعيفة (2669) // ضعيف الجامع الصغير (659) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(2558) إسناده ضعيف ¤ عطية: ضعيف (تقدم: 477) ولأصل الحديث شواهد دون قوله: ولو أن أحدًا مات۔۔۔۔إلخ
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 4230) (صحیح) (”فلو أن أحدًا“ کا ٹکڑا صحیح نہیں ہے، کیوں کہ عطیہ عوفی ضعیف ہیں، اور اس ٹکڑے میں ان کا کوئی متابع نہیں، اور نہ اس کا کوئی شاہد ہے)